رہبر انقلاب نہ صرف ایک ایرانی شخصیت ہیں؛ بلکہ وہ عالم اسلام سے تعلق رکھنے والی شخصیت ہیں۔ اور اس وقت رہبر معظم اسلام کی شناخت، تشیع کی شناخت اور امت اسلامیہ کی عزت اور حرمت ہیں۔ اگر وہ اس حرمت کی طرف ہاتھ اٹھائیں گے تو وہ ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔
امت واحد کے تحفظ کا تقویٰ/ امریکہ اور امریکی اتحادی خبردار! رہبر انقلاب ہماری سرخ لکیر
تقویٰ حفاظتی تدبیر کی ایک شکل ہے جو خطرات کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے، اس لیے کہ خطرات وقت اور زمانے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں لہذا حفاظتی تدبیر بھی ہر خطرے کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔ یہ موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق دین کو پہچاننے کے مترادف ہے، تاکہ دین اس دور کے مسائل کو حل کر سکے اور صرف روحانیت اور آخرت تک محدود نہ رہے۔ ہدایت تحفظ کے ذریعے مکمل ہوتی ہے۔ اس لیے قرآن نے ہدایت اور حفاظت کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔
قرآن کی نگاہ میں امت کی تشکیل
قرآن مومنین کے اسلامی معاشرے کا مکمل ڈھانچہ پیش کرتا ہے جس میں ایمان کے تمام اصول قائم ہیں۔ ایسے معاشرے کو قرآن نے امت کہا ہے اور اس معاشرے کی رہنمائی اور ہدایت کو امامت کہا ہے۔ اس طرح نظام امامت و امت تشکیل پاتا ہے۔ بہت سے علماء قرآن کی آیات کو روایات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ قرآن شکوک و شبہات سے پاک ہے اور اس میں ہر چیز واضح ہے، جب کہ روایات اور احادیث کی بات کی جائے تو اکثر ان کی صداقت غیر یقینی ہوتی ہے۔ تاریخی حوالہ کے طور پر مغیرہ بن سعید نے امام صادق (ع) کے دور میں امام صادق (ع) کے نام سے چار ہزار روایات گھڑ لیں۔ ایسے مسائل قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے قرآن کو روایات کے ذریعے سمجھنا ایک اصول بن گیا ہے جبکہ امام صادق علیہ السلام نے واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ روایات کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا اور ان کی تصدیق کرنا چاہیے۔ اگر وہ قرآن سے مطابقت رکھتی ہیں تو انہیں قبول کرو۔ اگر نہیں، تو انہیں چھوڑ دو. افسوس کہ ایسی روایات کو ترک کرنے کے بجائے ان سے ایک مکمل دین اخذ کیا گیا ہے جو قرآن سے متصادم ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ قرآن نے مسلم معاشرے کے لیے جو سماجی ڈھانچہ پیش کیا تھا وہ بدل گیا اور مذہب اہلبیت (ع) نے اپنا صحیح راستہ کھو دیا۔
آج بھی یہی مسئلہ موجود ہے، جہاں من گھڑت خبریں موصول ہوتی ہیں اور انہیں مستند سمجھا جاتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کی تقریباً 90% خبریں جھوٹی ہیں اور باقی 10% بھی تحریف کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ قرآن نے ایک واضح معیار مقرر کیا ہے: جب کوئی فاسد خبر لاتا ہے تو اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ ورنہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، جیسا کہ اس آیت کے پس منظر میں دیکھا گیا ہے جہاں ولید نے مبینہ طور پر ایک قبیلہ کے بارے میں جھوٹی خبریں لائیں جس کے بعد صحابہ کو غلط معلومات کی بنیاد پر تقریباً حملہ کرنا پڑا۔ آج بھی جامعہ جیسے ادارے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے خسارے میں ہیں جس میں علماء بھی ملوث ہیں۔ جھوٹ اور جھوٹی خبریں پھیلانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ جو جھوٹ پھیلاتا ہے اس کا شمار جھوٹوں اور زمین پر فساد پھیلانے والوں میں ہوتا ہے۔
سورہ مومنون مسلم معاشرے کا روڈمیپ
اللہ کا دیا ہوا نظام امامت اور امت تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی تمام امتوں پر لاگو تھا۔ سورہ مومنون جو مسلم معاشرے کا روڈمیپ پیش کرتا ہے، اس کی آیت 52 امت کے نظام اور ساخت کو بیان کرتی ہے:
وَإِنَّ هَـٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱتَّقُونِ
اور بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، اس لیے صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔
آیت 52 اعلان کرتی ہے کہ آپ ایک متحد قوم ہیں اور اللہ کے مقرر کردہ اس نظام کی حفاظت کے لیے تقویٰ حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ آیت ایک موضوع کو ختم کرتی ہے جو پہلے شروع ہوا ہے جو آیت نمبر 45 کے بعد واضح طور پر بیان ہوتا ہے۔ یہ آیات اس راستے کو پہچاننے کے لیے سنگ میل کے طور پر کام کرتی ہیں جو تمام انبیاء کا راستہ تھا۔ آیت نمبر 45 میں ارشاد ہوتا ہے کہ موسیٰ اور ہارون نے یہ راستہ جاری رکھا:
ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَـٰرُونَ بِـَٔايَـٰتِنَا وَسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ
پھر ہم نے موسی اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا
إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًا عَالِينَ
فرعون اور اس کے زعمائی مملکت کی طرف تو ان لوگوں نے بھی استکبار کیا اور وہ تو تھے ہی اونچے قسم کے لوگ
فَقَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَـٰبِدُونَ
تو ان لوگوں نے کہہ دیا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں جب کہ ان کی قوم خود ہماری پرستش کر رہی ہے۔
فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا۟ مِنَ ٱلْمُهْلَكِينَ
یہ کہہ کر دونوں کو جھٹلا دیا اور اس طرح ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئے۔
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی کہ شاید اس طرح لوگ ہدایت حاصل کر لیں
وَجَعَلْنَا ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةً وَءَاوَيْنَـٰهُمَآ إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ
اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو بھی اپنی نشانی قرار دیا اور انہیں ایک بلندی پر جہاں ٹھہرنے کی جگہ بھی تھی اور چشمہ بھی تھا پناہ دی
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُوا۟ مِنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَٱعْمَلُوا۟ صَـٰلِحًا ۖ إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
اے میرے رسولو! تم پاکیزہ غذائیں کھاؤ اور نیک کام کرو کہ میں تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہوں
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا، لیکن انہوں نے تکبر سے سوال کیا کہ وہ لوگ کیسے ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں؟ انہوں نے ایمان کا انکار کیا اور تباہ ہو گئے۔ اللہ پھر فرماتا ہے کہ اس نے موسیٰ کو کتاب دی، یعنی اپنی قوم کی رہنمائی کے لیے ایک منشور دیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (ع) کو نشانیاں دی گئیں اور ان کی والدہ اور ان کی حفاظت کی گئی اور انہیں پناہ دی گئی۔ قرآن پھر پیغمبروں کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ جو لوگ انسانیت کی رہنمائی کے لیے بھیجے گئے ہیں انہیں پاک اور حلال رزق سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
رزق کے دو پہلو؛ حلال اور طیب
قرآن رزق کے دو پہلوؤں میں فرق بیان کرتا ہے: حلال اور طیب۔ اہل ایمان کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے کہ حرام ان کی آمدنی میں نہ مل جائے، کیونکہ حرام کی تھوڑی سی مقدار بھی پورے مال کو آلودہ کر سکتی ہے۔ اگر ان کا مال غصب ہو جائے تو مومنوں کو ضرورت سے زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اسے قانونی طریقوں سے واپس کیا جا سکتا ہے، لیکن انھیں اس بات کی گہری فکر ہونی چاہیے کہ انھیں حاصل ہونے والی دولت کی نوعیت کیا ہے۔ جب بھی آمدنی ہوتی ہے، اس پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے، اور اس حصے کا استعمال جائز نہیں ہے۔ اس کے باوجود لوگ آرام سے اپنا مال استعمال کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ رسولوں کو پاکیزہ چیزوں کو کھانے کا حکم دیتا ہے۔ "کلُو” کا لفظ صرف خوراک کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد رزق کے تمام ذرائع ہیں، جس میں خوراک کو نمایاں کیا گیا ہے کیونکہ یہ آمدنی کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس لیے رزق کا ہر ذریعہ حلال اور طیب ہونا چاہیے۔ ایسی پاکیزگی کا نتیجہ عمل صالح ہے۔ اگر مومنین انفرادی طور پر اس اصول کو اپنائیں گے تو معاشرتی اصلاح ہوگی۔ بچت پر خمس کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بچت سے مراد غیر استعمال شدہ وسائل ہیں جن کی تقسیم قرآنی نظام کے مطابق ہونی چاہیے۔
آج کے نظام کی بنیاد حقوق غصب کرنے، چوری کرنے اور حرام مال کے استعمال پر ہے۔ جب کوئی چوری کرتا ہے یا رشوت لیتا ہے تو اسے حرام کھانے والا قرار دیا جاتا ہے، لیکن لوگ یہ جانچنے میں ناکام رہتے ہیں کہ وہ خود کتنا حرام کھاتے ہیں۔ خود احتسابی ضروری ہے۔ بہت سے مومنین خمس کی ایک اکائی بھی ادا کیے بغیر اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں، اپنے کاروبار مسلسل بڑھنے کے باوجود، خراب حالات کا دعویٰ کر کے اس کا جواز پیش کرتے ہیں۔
امت کی تقسیم خلاف قرآن
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پاکیزہ چیزیں کھاؤ، نیک عمل کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے باخبر ہوں۔ اس کے فوراً بعد، قرآن اعلان کرتا ہے کہ تم ایک امت ہو، اور اللہ تمہارا رب ہے، اس لیے اس امت کے اتحاد کی حفاظت کے لیے تمہیں تقویٰ حاصل کرنا چاہیے۔ البتہ اگلی ہی آیت بتاتی ہے کہ لوگوں نے اس امت کو تقسیم کر دیا جس کا مقصد ایک ہونا تھا:
فَتَقَطَّعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
پھر یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور ہر گروہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اسی پر خوش اور مگن ہے۔
انہوں نے جماعتیں اور گروہ بنائے جن میں سے ہر ایک صحیح راستے پر چلنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ ایسا کرکے انہوں نے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں، پیغمبر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو فرقوں میں بٹ چکے ہیں، ایک مدت کے لیے اسی گمراہی میں چھوڑ دیں:
فَذَرْهُمْ فِى غَمْرَتِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ
اب آپ انہیں ایک مدت کے لیے اسی گمراہی میں چھوڑ دیں
اللہ تعالیٰ نے ایک امت بنائی، لیکن وہ فرقوں میں بٹ گئی کیونکہ سماجی تقویٰ کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ جب دین کو سماجی نظام نہیں سمجھا جاتا تو اس سے فرقہ واریت جنم لیتی ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا جرم دین کو فرقوں میں تقسیم کرکے اتحاد امت کو تباہ کرنا تھا۔
دوسرا خطبہ
تقویٰ انسانی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حفاظتی اقدام ہے۔ تقویٰ انسان کو مہلک خطرات سے اور آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تقویٰ کے بغیر معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح آج موجودہ انسانی نسل خطرات میں گھرے فتنے کی آگ میں جل رہی ہے۔ ہر طرف سے آفات نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پھر بھی اسے کوئی فکر نہیں۔ یعنی بے دین نسل اتنی بے تقوی اور غافل ہو گئی ہے کہ خطرات اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں، لیکن وہ ان سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر نہیں کرتی۔ بلکہ ان فتنوں کا حصہ بن جاتی ہے۔
امیر المومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ کی حکمت 117 میں فرمایا ہے کہ "ھلک فی رجلان محب غال و مبغض قال”- دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے۔ ان کی تباہی کا سبب کیا ہو گا؟ ایک گروہ کی تباہی کا سبب علی کی نسبت غلو کرنا اور انہیں خدائی حدوں تک لے جانا ہے، یہ افراطی محبت تباہ کن ہے۔ دوسرا گروہ علی سے نفرت، بغض اور دشمنی کی وجہ سے ہلاک ہو گا۔ اور یہ دونوں فتنے اس وقت مسلمانوں کے سامنے ہیں۔ غلو کے فتنے نے شیعت اپنی گرفت میں لے رکھی ہے اور نفرت اور ناصبیت کے فتنے میں سنی معاشرہ گرفتار ہے۔
غلو اور ناصبیت معاشرے کی تقسیم کا ایک سبب
اگر آپ کسی بھی بنیاد پر سماجی جائزہ لیتے ہیں تو آپ کو ناصبیت اور اہل بیت سے بغض اور نفرت میں اضافہ نظر آئے گا۔ اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ممکن ہے کہ وہ اہل بیت کا نام لے کر ان کی توہین یا تذلیل نہ کریں لیکن اگر وہ اہل بیت کے دشمنوں کی تعریف کریں تو یہ اہل بیت سے بغض اور عداوت شمار ہوتا ہے۔ اس کی شدت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اور اس سے امت مزید پاش پاش ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف غلو نے زور پکڑ رکھا ہے اور دوسری طرف ناصبیت نے۔
سب سے بڑا جرم فرقہ وارانہ تفرقہ ہے، جیسا کہ اشارہ کیا گیا کہ یہ امت ایک ہے، لہٰذا اس کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کرو۔ کسی بھی بہانے تنظیم نہ بنائیں اور پھر اس کے ٹکڑے نہ کریں۔ جیسے آپ بکرے کو کاٹ کر کھانے کی مختلف ڈیشیں بناتے ہیں اسی طرح آج امت کو کاٹ کر اس کی مختلف تنظیمیں، فرقے اور دھڑے بنائے جا رہے ہیں اور پھر ہر کوئی فرقے کی تعریف کر کے اس پر خوش ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے "فرحون” یہ لوگ امت کو فرقوں میں بانٹ کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
نتیجہ کیا ہوا؟ امت مختلف دھڑوں میں بٹ گئی۔ بعض لوگوں نے محبت کو بنیاد بنا کر غلو کی شکل اختیار کی اور بعض نے بغض اور عداوت کو بنیاد بنا کر ناصبیت پیدا کی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام علماء نے یہ کیا- جس طرح قصاب بکرے کو کاٹ کر مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے اسی طرح علماء نے امت کو کاٹ کر مختلف فرقوں میں تقسیم کیا ہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ آج امت بہت کمزور ہو چکی ہے، جیسا کہ قرآن نے آپس میں جھگڑے کرنے سے روکا تھا: ’’جھگڑے نہ کرو کمزور ہو جاؤ گے، تمہاری طاقت، عزت، مرتبے اور شان و شوکت خاک میں مل جائے گی۔‘‘ آج ایسا ہی ہوا ہے۔
امت کی تقسیم کا نتیجہ؛ عالم اسلام کی بحرانی صورتحال
اس وقت مسلمانوں کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ شاید انسانی اور اسلامی تاریخ میں ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔ تاریخ میں ایسی صورتحال نہیں ملتی۔ بڑے بڑے بحرانوں کا تذکرہ تاریخ میں ملتا ہے، لیکن اس وقت عالم اسلام جس بحران کا شکار ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور خاص طور پر عالم اسلام میں وہ ممالک جو دوسروں کے مقابلے میں اسلام کے زیادہ وفادار ہیں، وہ زیادہ بحران کا شکار ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کن حالات سے گزر رہا ہے؟ ٹرمپ نے مسلمانوں کی مدد سے یہ شیطانی منصوبہ بنایا ہے کہ ایران میں قائم نظامِ ولایت کو ختم کیا جائے۔ اس نے بحری بیڑے اور جنگی طیارے بھیجے، فوجیں بھیجیں، اور مسلمان ہمیشہ کی طرح بیان بازی کر رہے ہیں جیسا کہ فلسطین اور غزہ کے بارے میں کرتے آئے ہیں۔ چونکہ وہ خفیہ طور پر اس شیطان کے ساتھ متفق ہیں۔ اور ایران میں نظام ولایت کا خاتمہ ان کی دیرینہ خواہش ہے۔
ایران پر امریکہ کا دباؤ؛ عرب ممالک کی منافقت
امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے طاقت کا استعمال کر رہا ہے تاکہ ایران امریکہ کے سامنے جھک جائے، لیکن عرب اور مسلم ممالک صرف ایران کے جھکنے پر مطمئن نہیں ہیں۔ وہ ایران کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ میں اس سے پہلے فلسطین، حماس اور مزاحمت کے حوالے سے کہہ چکا ہوں: اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ اس کے سامنے جھکیں، مزاحمت ختم ہو جائے، فلسطینی جھک جائیں۔ لیکن بن سلمان چاہتے ہیں کہ فلسطین مٹ جائے، حماس ختم ہو جائے، اور مزاحمت مٹ جائے، یہ نہیں کہ مزاحمت کو دبایا اور جھکایا جائے۔ عرب جھکنا نہیں، مٹانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد مزاحمت کے جھکنے سے پورا ہوتا ہے، لیکن بن سلمان اور باقی عربوں اور اتحادیوں کا مقصد ایران کے جھکنے سے پورا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کو مٹا دیا جائے تاکہ ان کے منصوبے کامیاب ہوسکیں۔ اس لیے انھوں نے ایک ظاہری منافقت اختیار کی ہے اور بظاہر وہ ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
ایران کو جھکانا آسان نہیں
ایران کوئی تنظیم نہیں ہے۔ یہ ایک ملک ہے. اس کے پاس ایک مکمل دفاعی نظام ہے اور مشرق وسطیٰ کا سب سے مضبوط نظام ہے۔ دوسروں کے پاس اپنا اتنا مضبوط نظام نہیں ہے۔ اور ایران کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس کا دفاعی نظام مکمل طور پر اس کا اپنا ہے۔
وہ دفاعی نظام خرید کر نہیں لایا۔ اس کے پاس چین، روس، امریکہ اور دیگر بازاروں سے خریدا گیا سامان نہیں ہے۔ اس کے پاس وہی ہے جو اس نے خود بنایا ہے۔ اور ایک ایسا ملک جو دفاعی سازوسامان میں خود کفیل ہو، اپنی دفاعی ضروریات خود پیدا کرتا ہو، اس کا محاصرہ کرنا اور حماس یا فلسطین کی طرح اس پر دباؤ ڈالنا آسان نہیں ہے۔
ایران نے اس سے پہلے ایسا لب و لہجہ اختیار نہیں کیا تھا اور نہ ایران کے خلاف ایسا لب و لہجہ اس سے قبل کبھی سامنے آیا تھا۔ اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ہمیں اس حکومت کو ختم کرنا ہے، اور اس کے لیے ایران کے اندر باہر، اور ایران کے ہمسایہ ممالک میں کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اور پاکستان اس معاملے میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اور یہ بھی اس معاملے میں امریکہ کا اتحادی ہے۔
پاکستان ایران کا پڑوسی ہے۔ اس کا کا اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے، نہ دفاعی معاہدہ اور نہ ہی تجارتی معاہدہ۔ لیکن امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدے ہیں، اور پاکستان ان کا اتحادی ملک ہے۔ وقت آنے پر وہ معاہدے کے مطابق چلے گا، دوستی کے مطابق نہیں۔ لیکن بیان بازی جس طرح فلسطین کے لیے شروع میں کرتا تھا اب ایران کے بارے میں بھی کر رہا ہے۔
رہبر انقلاب پر حملہ ایران کی سرخ لکیر
ایران نے یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر وہ کسی سرخ لکیر کو کراس کرنے کی کوشش کریں گے – جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے رہبر انقلاب پر حملہ کریں گے، تو اس طرح کا کوئی حملہ ایران کے خلاف مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ اس سے پہلے جو جنگ تھی وہ ایک مکمل جنگ نہیں تھی اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ ایک ہمہ جہتی جنگ ہوگی۔ دوسرا، یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں ہوگی۔ یہ پوری دنیا میں، ہر ملک میں اور ہر زمین پر ہوگی، کیونکہ جب آپ ہمیں مٹانے کا عزم کر لیں گے، تو ہم اپنے آپ کو بچانے کے لیے اقدامات کریں گے، اور جس طرح آپ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں، ہم بھی آزاد ہوں گے۔ ہم جنگ کے قوانین کی پابندی نہیں کریں گے۔ اپنے دفاع کے لیے وہ کریں گے جو تم سوچ بھی نہیں سکتے ہو۔
اور ظاہر ہے کہ ایران نے اپنا پورا انتظام کر لیا ہے۔ ایران کے آس پاس کے تمام ممالک میں امریکی اڈے اور سفارت خانے ہیں۔ ان سب کو اپنے نشانوں پر لے لیا گیا ہے۔ اور یہ ان لوگوں کو معلوم ہے جو درمیان میں ثالثی کر رہے ہیں۔ جن کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ امریکہ کے اتحادی بھی ہیں۔ ایران نے بھی انہیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ہماری پہنچ جہاں تک جا سکتی ہے ہم اس حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
امریکہ نے ایران کو چاروں طرف سے گھیر کر جو ماحول بنایا ہے، اگر وہ خود حملہ نہیں کرتا تو کم از کم حملہ کرنے والوں کے لیے ایک میدان بنا دیا ہے۔ اس نے ایران کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے تاکہ ایران کے اندر، ان کے تیار کردہ، جاسوس اور درانداز وغیرہ کو دوبارہ سر اٹھانے کا ماحول دیا جائے ۔ امریکہ حملہ نہ بھی کرے تو فساد ضرور کرے گا۔ چونکہ وہ یہاں تک آچکا ہے۔ یہاں سے واپس پلٹنا اور پھر حالات کو معمول پر لانا اور دوبارہ ایسا ماحول بنانا اس کے لیے کافی دشوار ہے۔
اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا
لیکن دوسری طرف بھی ایرانیوں نے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ ہم کسی جابر کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہمارا مکتب، نظریہ، اور نظام اس کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ رہبر معظم نے چند سال پہلے ایک خطبہ میں فرمایا تھا: یہ دنیا اپنے ذہن سے یہ خیال نکال دے کہ وہ ایران کو شعب ابی طالب میں دھکیل دیں گے۔ کربلا برپا ہو سکتی ہے لیکن ہم شعب ابی طالب کو نہیں ہونے دیں گے۔ شعب ابی طالب کا مطلب ہے: مسلمانوں کو کسی وادی میں قید کرنا، ان کا سامان منقطع کرنا، ان کی بول چال اور ان کا آنا جانا روک دینا، انہیں دباؤ میں رکھنا تاکہ نہ وہ اندر سے کچھ کر سکیں اور نہ باہر سے کوئی ان کی مدد کر سکے۔ فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا۔ اب چونکہ وہ شعب ابی طالب سے نکل کر بہت آگے بڑھ چکے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ اسے کربلا بنا دیں۔
کربلا رہنمائی کا میدان ہے۔ کربلا سے پیدا ہونے والی نسل ایران کے اندر اور باہر موجود ہے اور وہ پوری طرح تیار ہے۔ حشد الشعبی، حزب اللہ اور حوثی ایران کے مضبوط اور طاقتور ہتھیار ہیں۔ انہوں نے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اگر آپ رہبر انقلاب پر حملے کی کوشش کرنے کے لیے اس حد تک چلے گئے تو یہ نہ سوچیں کہ حزب اللہ پہلے کی طرح جنگی قوانین کے مطابق کارروائی کرے گی۔ بلکہ آپ جو بھی ضرب لگائیں گے وہی ضرب آپ کو لگے گی اور پھر آپ کو پوری دنیا میں جنازے اٹھانا ہوں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف خلیج میں آپ کے سپاہی ایرانی میزائلوں سے مریں گے۔ آپ کو یہ ضربیں کئی جگہوں پر برداشت کرنی پڑیں گی۔ اور وہ لوگ تیار ہیں اور اس کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت ہوش کے ناخن لے
اور ہم پاکستان کی حکومت کو بھی یہ کہتے ہیں کہ: یقیناً آپ اپنے سفارتی تحفظات اور مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ جس سے چاہیں دوستی کر سکتے ہیں لیکن خیانت کی طرف مت جانا۔ یہ مت سوچیں کہ امریکہ اور ٹرمپ آپ کی تعریف کرتا ہے، وہ مفت میں نہیں کرتا۔ بدلے میں وہ کچھ چاہتا ہے۔ اب تک اس نے پاکستان سے اسرائیل کی حمایت مانگی ہے جو اسے کسی حد تک ملی ہے اور اس نے فلسطین یا حماس کی مخالفت کا کہا ہے جو انہوں نے کسی حد تک فراہم کیا ہے۔ لیکن اس سے آگے، اگر وہ آپ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، آپ کی سرزمین کو اپنے ایئربیس کے لیے استعمال کرنا چاہیتا ہے تو پاکستانی حکومت کو یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ بہتر ہے کہ اگر بحیثیت مسلمان آپ کسی مسلمان ملک کی حمایت نہیں کر سکتے تو کم سے کم غدار اور دشمن ٹرمپ کا ساتھ نہ دیں۔ اب بہتر ہے کہ تماشائی بنے رہو جیسا کہ تم پہلے تھے۔
لہذا، اصولی طور پر، جس طرح پاکستان نے اقوام متحدہ کی ووٹنگ میں ایران کے حق میں ووٹ دیا، جو کہ ایک بہترین عمل تھا- ایرانی سفیر اور دیگر نے بھی شکریہ ادا کیا- اسی طرح اگر آپ اپنی اصولی پالیسی پر قائم ہیں: نہ ایران اور نہ ہی امریکہ کا ساتھ دیں، بلکہ پاکستان کے حق اور پاکستان کے مفاد میں اصولی پالیسی رکھیں- اگر آپ اس پر ڈٹے رہے تو یہ بھی قابل قبول ہے۔
رہبر انقلاب پر جانیں قربان کرنے والے آمادہ رہیں
لیکن پاکستان کی قوم نے ٹرمپ کے ساتھ کوئی حلف یا معاہدہ نہیں کیا ہے۔ یہ وزیراعظم کی طرح مجبور نہیں ہے۔ اور ان شاء اللہ جس طرح پاکستانی عوام فلسطین کے ساتھ کھڑی تھی انشاء اللہ وہ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی گے۔ اور اس موقع پر بھی وہ ایران کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اور پاکستان کے یہ نوجوان جو رہبر کی محبت میں پیدا ہوئے ہیں اور رہبر کے حکم پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ تو اب قربانی کا وقت آ چکا ہے۔
رہبر انقلاب نہ صرف ایک ایرانی شخصیت ہیں؛ بلکہ وہ عالم اسلام سے تعلق رکھنے والی شخصیت ہیں۔ اور اس وقت رہبر معظم اسلام کی شناخت، تشیع کی شناخت اور امت اسلامیہ کی عزت اور حرمت ہیں۔ اگر وہ اس حرمت کی طرف ہاتھ اٹھائیں گے تو وہ ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔
لیکن ابھی کے لیے، فوری طور پر، تمام پاکستانی چاہے وہ شہروں میں رہنے والے ہوں یا دیہاتوں میں، 11 فروری یومِ انقلاب کے موقع پر انشاء اللہ سڑکوں پر نکلے گی۔
ٹرمپ کا بیڑا غرق ہو کر رہے گا
ان شاء اللہ، جس طرح اللہ نے پہلے بھی شیطان کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیا اس بار بھی ناکام بنائے گا، ٹرمپ کو معلوم نہیں کہ یہ پہلی دھمکی نہیں جس کے ساتھ تم میدان میں آئے ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ پچھلے پچاس سالوں میں تمہیں ہر بار ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ یہ ہستی وہ ہے جس کے پاس سالوں کا تجربہ ہے۔ اور بار بار انہوں نے تمہارے جیسوں کے منصوبوں کو خاک میں ملایا ہے۔ اور یہ کوئی بار تم اپنے جنگی بیڑے نہیں لے کر آئے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا کر چکے ہو اپنے مقامی ایجنٹوں کے ساتھ مل کر جنگیں بھی کر چکے ہو اور ہر بار ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس بار بھی تم ابرہہ بن کر آئے ہو۔ اب تمہارا سامنا ابابیل سے ہوگا۔ اور جس طرح ابرہہ آیا اور واپس نہیں گیا، اسی طرح اب تم بھی آ چکے ہو، تم واپس نہیں جا سکو گے۔ تمہارے بیڑے وہیں ڈوب جائیں گے اور تمہارے ملک کا بیڑہ بھی غرق ہو جائے گا اور سورہ فیل ایک بار پھر آواز دے گا:
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصحابِ الْفِیْلِ
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے أصحابِ الفیل کے ساتھ کیا کیا؟ اس پر ابابیل پیدا کیے اور کنکریاں برسائیں اور اسے بھوسے کی طرح بنا دیا۔ آج انشاء اللہ وہ دن آ گیا ہے کہ امریکہ بھوسے جیسا ہو جائے۔ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔ اب ٹرمپ پر موت آچکی ہے، اور موت کے لیے وہ اس راستے پر نکلا ہے، اس لیے وہ زندہ واپس نہیں آئے گا، انشاء اللہ۔
اور میں تمام شیعوں سے کہتا ہوں کہ تم کوفیوں جیسے شیعہ نہ بننا۔ کربلا کے شیعہ بنو۔ کوفیوں کی طرح گھروں میں بیٹھ کر رونا مت کرو: امام حسین شہید ہوں گے، پھر ہم مجلسیں کریں گے اور روئیں گے۔ ایسے شیعہ نہ بنو۔ بعد میں رونا کسی چیز کا جبران نہیں ہے. بلکہ اس موقع پر میدان میں آجاؤ۔ اگر تم اپنے زمانے کے رہبر کو نہیں بچا سکتے تو رہبر کے ساتھ شہید ہو جاؤ، یہ اعزاز ہے۔ اور شہدائے کربلا کی شان یہ تھی کہ انہوں نے امام پر رونے کے لیے اپنے آپ کو نہیں بچایا کہ ہم بعد میں روئیں گے۔ بلکہ امام کے قدموں میں شہادتیں پیش کر دیں۔
