آپ اعلان کریں کہ آج آپ حق کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یہ کہ حق کا جھنڈا رہبر انقلاب کے ہاتھوں مین ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ رہبر اکیلے کھڑے ہیں۔ جب انہوں نے کہا کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو یہ دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ پورے خطے کی جنگ ہوگی، یعنی ہر گلی اور ہر زمین پر لڑی جائے گی، یہ پیغام دنیا تک پہنچنا چاہیے۔
امامت و امت اور تقویٰ کا باہمی تعلق: قرآنی نظام؛ امت کی تشکیل، اتحاد اور تحفظ/ رہبر انقلاب کے ہمراہ میدان جنگ میں آ جاؤ
اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے فطری نظام کے مطابق انسان کو اجتماعی اور سماجی زندگی گزارنی ہے؛ یعنی انسان ایک معاشرہ تشکیل دے کر اس میں زندگی بسر کرے گا۔ دوسری مخلوقات کی طرح وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔
سماج کی حیات اور انسانی جسم کی مثال
معاشرہ ایک باہمی اور اجتماعی زندگی کا نام ہے جسے انسانی بدن کی طرح تمام اعضا مل کر تشکیل دیتے ہیں۔ معاشرے کی بہترین مثال انسانی بدن ہے: انسان کی جسمانی زندگی مختلف اعضاء و جوارح اور جسم کے مختلف حصوں پر مشتمل ہے اور یہ تمام اعضاء و جوارح مل کر ایک جسم کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس جسم کی اپنی حیات ہے لیکن اعضا و جوارح کی حیات اس جسم پر منحصر ہے۔
اگر جسم کے زندہ رہتے ہوئے انسان کے ہاتھ پیر کٹ جائیں تو وہ اپنے امور انجام دیتا رہتا ہے اور اپنی حیات جاری رکھ سکتا ہے لیکن ہاتھ پیر کی حیات جسم سے الگ ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ برعکس اگر جسم مر جائے تو اعضاء گرچہ صحیح و سالم ہوں لیکن جسم کی موت کے ساتھ ہی ان کی حیات بھی ختم ہو جاتی ہے۔ جسم کی موت سے انسان کا ایک بال تک زندہ نہیں رہ سکتا۔
یہ سماجی نظام کی یہ ایک بہترین مثال ہے، سماج کو افراد مل کر تشکیل دیتے ہیں لوگوں کے مجموعہ کا نام سماج ہے علیحدہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن اس کی اپنی ایک حیات ہے جس میں یہ اعضا و افراد دخیل ہیں۔ اگر سماج مر جائے تو اس کے تمام اعضاء بھی مر جائیں گے لیکن اگر سماج کے کچھ اعضا الگ ہو جائیں یا مرد جائیں تو سماج باقی رہتا ہے۔
یہی مثال رسول اللہ (ص) نے مومن سماج کی دی ہے کہ مومن معاشرہ ایک جسد کے مانند ہوتا ہے اگر کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا درد تمام اعضاء محسوس کرتے ہیں۔ مومنین کے معاشرے کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اگر کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو باقی اعضا اس کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے سب مل کر اس کی مدد کو پہنچیں۔ یہ ایک پہلو سے یہ مثال دی گئی ہے۔
لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسانی معاشرہ در حقیقت ایک جسد ہی ہے جس طرح انسان کے جسم کے اندر اس کے اعضاء کے جسم کے ساتھ روابط ہوتے ہیں اور جسم کے مرنے سے وہ مر جاتے ہیں۔ اسی طرح انسانی افراد سے تشکیل پائے معاشرے کے اندر بھی افراد کے معاشرے کے ساتھ روابط ہوتے ہیں اور اگر معاشرہ مر جائے تو وہ افراد خود ہی مر جائیں گے۔ معاشرے کی موت افراد کی موت سمجھی جائے گی۔
انسانی معاشرہ قرآن میں محور ہدایت
اس تناظر میں، قرآن کریم نے حفاظت کا جو حکم دیا ہے اس میں انسانی معاشرہ محور ہدایت ہے ہدایت کا اصل نظام معاشرتی زندگی کے لیے آیا ہے۔ تاکہ اگر معاشرتی زندگی ہدایت کے اصولوں پر قائم ہو جائے تو اس کے افراد خودبخود ہدایت یافتہ ہو جائیں گے۔ جس طریقے سے جسم کی حفاظت اور اس کی سلامتی اعضا کی سلامتی کا سبب بنتی ہے۔
اگر جسم کسی مہلک بیماری میں گرفتار ہو جائے اور کوئی ایک عضو کہے کہ مجھ سے کیا مطلب میں اپنی زندگی جی لوں گا تو یہ حماقت ہے کیوںکہ جسم کی موت سے اس کی بھی موت ہو جائے گی۔
اسی طرح سماج بھی اگر کسی بیماری میں مبتلا ہو گیا ہے اور آپ کہیں کہ ہم اپنے گھر میں صحیح سالم رہ لیں گے یہ آپ کی خوش فہمی ہے ورنہ سماج کے فاسد ہوتے ہی اس کے افراد بھی فاسد ہو جاتے ہیں۔
آج ہم اسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کا نظام ہدایت انفرادی شکل میں ہمارے سامنے پیش کیا گیا، کہ دین کی ہدایت فرد کے لیے ہے، سماج کے لیے نہیں ہے۔ یعنی قرآن انفرادی ہدایت کا نظام پیش کرتا ہے اس کے پس اجتماعی ہدایت کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے ہمارا طرز زندگی اس طرح بن گیا ہے کہ ہم فاسد معاشرے میں بھی جنت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ خرابی دین کو پہچاننے اور سمجھنے کے مرحلے پر پیدا ہوئی ہے۔
انسانی ہدایت کا نظام اور حفاظت کا اہتمام
اور تیسری چیز جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے وہ حفاظت ہے یعنی جس مقدار اور اندازے سے انسانی زندگی اور انسانی ہدایت کا نظام بنایا اسی مقدار اور اندازے سے حفاظت کا اہتمام بھی کیا ہے۔
یہ دین کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ دین کا اصلی اور بنیادی ڈھانچہ سماج کے لیے ہے۔ اور اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ دین عملی کام کا نام ہے، پریکٹیکل ہے تھیوری نہیں ہے۔ رسول اللہ (ص) نے لوگوں کے ساتھ ایک معاشرہ تشکیل دیا، اور اس معاشرے میں لوگوں کو عملی طور پر دین سکھایا۔
لہذا، جب معاشرہ دینی اصولوں پر قائم ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کے تحفظ کا مرحلہ آتا ہے۔ اور تقویٰ ایک حفاظتی نظام ہے یعنی سماجی اور اجتماعی تقویٰ، جو تقویٰ کی بنیاد ہے۔ یعنی اصل تقویٰ اجتماعی تقویٰ ہے اور انفرادی تقویٰ اور صنفی تقویٰ اس اجتماعی تقویٰ سے جنم لیتا ہے۔
صنفی تقویٰ کی تشریح
صنف کا مطلب کیا ہے؟ سماج مختلف طبقات پر مشتمل ہوتا ہے اور صنف اس کے ایک طبقے اور گروہ کو کہتے ہیں۔ جیسے صنف علما، صنف اطباء۔ کسانوں کا طبقہ ایک صنف ہے، کاریگر طبقہ، سرمایہ دار طبقہ، مزدور طبقہ یہ سب سماج کی مختلف اصناف ہیں۔ ان طبقات سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
اب اگر کوئی تاجر یا سرمایہ دار صنف سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے لیے صنفی تقویٰ ہے جو اسی کی صنف سے مخصوص ہے۔ اسی طرح صنف علما کا تقویٰ، صنف خواتین کا تقویٰ، ہر صنف اور ہر گروہ کا الگ صنفی تقویٰ اس صنف کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اور ان سب کے اوپر عمومی تقویٰ ہے جو تمام طبقات کو شامل ہے اسے امت کا تقویٰ کہتے ہیں۔
امت کی تشکیل، ہدایت اور حفاظت
پہلا مرحلہ امت کی تشکیل ہے۔ دوسرا مرحلہ امت کی ہدایت اور تیسرا مرحلہ اس کی حفاظت کا ہے۔ یہ وہ تین مراحل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں معاشرے کے لیے مقرر کیے ہیں اور رسول اللہ نے ان تینوں مراحل کو عملی جامہ پہنایا۔
رسول اللہ نے جن افراد کے ذریعے امت تشکیل دی وہ بہت ہی گھٹیا اور جاہل افراد تھے۔ وہ لوگ جو انسان ہوتے ہوئے بھی غیر انسانی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ کتنا مشکل کام ہے کہ ایک معمار کو ایسی سرزمین پر بھیجا جائے جہاں تعمیر کا کوئی سامان نہ ہو یعنی صرف چٹانیں ہوں اور اسے کہا جائے کہ وہ ام چٹانوں کو تراشے، ان سے بلاکس بنائے، ان سے اینٹیں بنائے، پھر عمارت بنائے اور پھر اس عمارت کی حفاظت کرے۔ کتنا مشکل کام ہے۔
رسول اللہ نے اس مشکل چیلنج کو قبول کیا۔ جن لوگوں سے معاشرہ تشکیل پانا تھا وہ خود انسانیت سے ہی بہت دور تھے۔ اس لیے سب سے پہلے ان کو تراشنا تھا، پھر نکھارنا اور ان کی اصلاح کرنا تھا- ان میں انسانیت پیدا کرنا تھی، ان کی شخصیت کی تعمیر کر کے پھر ان کے ذریعے معاشرہ تشکیل دینا تھا۔ یہ ایک دشوار کام تھا جو رسول اللہ نے کیا۔
تشکیل امت میں انبیاء کا کردار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم علماء کی طرح صنف نازک میں سے نہیں تھے بلکہ وہ صنف مجاہدین میں سے تھے اور انہوں نے اپنے فریضہ کی ادائیگی میں اس قدر کوشش کی کہ اللہ کو انہیں روکنا پڑا کہ آپ اس قدر اپنے آپ کو نہ تھکاؤ۔ رسول اللہ سخت زحمت کرنے والے تھے اور امیرالمومنین علی علیہ السلام بھی ایسے ہی تھے۔ ہرمیدان میں ہر مشکل کے سامنے ڈٹ جانے والے، ثابت قدم رہنے والے اور جدوجہد کرنے والے تھے۔
اور انبیاء علیہم السلام بھی ایسے ہی تھے جناب موسیٰ کو دیکھ لیں انتہائی مضبوط انسان تھے۔ بے باک، بے خوف، ہر چیز کا مقابلہ کرنے والے، چٹانوں، سمندروں اور فرعونوں سے ٹکرانے والے۔ صنف نازک یہ کام نہیں کر سکتے۔
پہلا مرحلہ امت کی تشکیل کا ہے۔ دوسرا مرحلہ اس کی ہددایت، پرورش اور تربیت ہے۔ تیسرا مرحلہ اس کی حفاظت کا ہے۔ یہ پورا نظام قرآن مجید میں موجود ہے۔
قرآن اور مکمل نظام حیات
مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے استاد سے یہ بات سنی کہ قرآن میں مکمل نظام حیات موجود ہے جسے ابھی تک کسی ذہن نے چھوا نہیں اور کسی زبان نے بیان نہیں کیا۔ تو مجھ پر اس جملے نے بڑا اثر کیا کہ آخر وہ نظام حیات ہے کہا جسے ہم قرآن پڑھتے وقت نہیں سمجھ سکتے۔
ایک طرف، یہ دعویٰ کیا گیا۔ اور دوسری طرف اس بات کا یقین بھی تھا کہ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے کیونکہ قرآن خود ایک نظام ہدایت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگر یہ کتاب ہدایت ہے تو اس کے اندر مکمل نظام موجود ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ نظام پردوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ ہماری آنکھوں اور ہمارے دل و دماغ پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ یا خود قرآن کی عبارتوں اور اس کی تفسیروں کے پردے ہیں۔ اگر یہ پردے ہٹ جائیں تو قرآن کا واضح نظام نظر آجائے گا۔ ان پردوں کو ہٹانے کے لیے بڑی محنت درکار ہے۔
جیسا کہ اللہ نے علامہ اقبال کی آنکھوں سے یہ پردے ہٹا دیے تھے۔ اور انہیں قرآن کے اندر وہ نظام حیات نظر آیا۔
قرآن خود کہتا ہے کہ ان کے دلوں، آنکھوں اور کانوں پر پردے ہیں۔ اگر یہ پردے ہٹ جائیں اور ہمارے اندر بصیرت پیدا ہو جائے تو ہمیں قرآن کے اندر مکمل نظام انسانیت نظر آئے گا۔
امیر المومنین فرماتے ہیں: قرآن سے گفتگو کرو، قرآن بولتا ہے۔ اگر آپ قرآن کے محرم بن جائیں گے تو قرآن آپ سے ہمکلام ہو گا۔ لیکن ہم جب قرآن پڑھتے ہیں تو ہم خود کو کسی قرآنی بیان کا مخاطب نہیں سمجھتے۔
اگر ہم قرآن کے مخاطب بن جائیں تو قرآن ہم سے کلام کرتا ہے۔ علامہ اقبال نے مدرسوں میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ میں یہ بات بار بار اس لیے دہراتا ہوں کیونکہ مومنین نے عموماً یہ ایک ذہنیت بنا لی ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے مدرسوں میں جانا ضروری ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ علامہ طباطبائی کہتے ہیں کہ مدارس قرآن سے بہت دور کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے قرآن مجید کو گھر بیٹھے سیکھا، انگریزی تعلیم حاصل کی۔ لیکن چونکہ قرآن سے مانوس تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں سے پردے ہٹا دیے اور جب انہوں نے قرآن میں نظام حیات کو دیکھا تو وہ شدت سے رو پڑے کیونکہ قرآن میں اتنا خوبصورت نظام موجود ہے اور یہ تمام مسلمان قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن وہ اس سے بالکل ناواقف ہیں، اور خود کتنے فاسد نظاموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر وہ روتے تھے۔
قرآنی نظام حیات؛ امامت و امت
بے شک قرآن میں وہ نظام بڑی خوبصورتی کے ساتھ موجود ہے۔ اگر کسی کے دل میں تڑپ ہو تو اللہ بخیل نہیں ہے وہ اسے ضرور دکھلائے گا۔
یہ خوبصورت قرآنی نظام جس کے عنوان سے اس اجتماع کے اکثر لوگ اب واقف ہو چکے ہیں، نظام امامت و امت ہے۔ یہ قرآنی نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت کے لیے جو نظام مقرر کیا ہے اس کا نام ہے امامت و امت۔ یہ نام خود قرآن نے رکھا ہے۔ رسول اللہ، ائمہ اطہار ، صحابہ یا علما نے نہیں رکھا۔ قرآن نے خود نام بھی تجویز کیا اور اس کی تفصیلات بھی بیان فرمائیں۔
سورہ مومنون کی آیت نمبر 52 میں ارشاد ہے:
وَإِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱتَّقُونِ
’’اور بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔ اور میں تمہارا رب ہوں میرا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔
اس سے پہلے والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمࣱ (51)
’’اے میرے رسولو ! تم پاکیزہ غذائیں کھاؤ اور نیک کام کرو کہ میں تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہوں‘‘۔
51 نمبر آیت میں انبیاء کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیت میں انبیاء کو خطاب ہے کہ یہ امت تمہاری امت ہے۔ اس کے بعد عام ترجموں میں یہ ہے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا مجھ سے ڈرو۔ یعنی رب کوئی ڈراؤنی چیز ہے لہذا اس سے ڈرو۔ ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو امت سازی کا کام سونپا ہے۔ اللہ کا یہ پیغام، اور یہ دین، امت بنانے کے لیے دیا گیا۔ یہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں، اور آپ کی پیروی کرتے ہیں، یہ آپ کی امت ہے، امت واحدہ ہے۔
قرآن کی امت واحدہ پر تاکید
یہ ایک بہت اہم عنوان ہے: امت واحدہ ۔ یہ اصطلاح قرآن میں بار بار آئی ہے- تقریباً چھ یا سات بار۔
یہ تمہاری امت ہے اور امت واحدہ ہے۔ میں تمہارا رب ہوں یعنی انبیاء کا رب بھی میں ہوں اور امت کا رب بھی میں، ’’فَٱتَّقُونِ ‘‘ لہذا حفاظتی تدبیر اختیار کرو۔ یا اللہ کو حفاظتی تدبیر کے طور اختیار کرو۔ تاکہ اس امت کا اتحاد پارہ پارہ نہ ہو۔ اس امت واحدہ کے امت ہونے اور اس کے واحد ہونے کی حفاظت کرو۔ یہ انبیاء کا مشن تھا۔ امت اگر بکھر گئی امت کا اتحاد اگر ٹوٹ گیا تو انبیاء کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔ اس امت کے اتحاد کا دارومدار اس حفاظتی تدبیر اور تقویٰ پر ہے۔ یہ بنیادی تقویٰ ہے جس کے بطن سے تقویٰ کی باقی تمام صورتیں جنم لیتی ہیں۔ انفرادی تقویٰ، طبقاتی تقویٰ، اور گروہی تقویٰ سب اس بنیادی تقویٰ سے نکلتے ہیں۔
فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرࣰاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ (53)
’’ پھر یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور ہر گروہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اسی پر خوش اور مگن ہے‘‘۔
یعنی ان لوگوں نے امت کے ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کر کے حزب اور گروہ بنائے اور پھر ان گروہوں کے جو کچھ ہے اسی پر خوشیاں منا رہے ہیں۔
اللہ پھر فرماتا ہے:
فَذَرۡهُمۡ فِي غَمۡرَتِهِمۡ حَتَّىٰ حِينٍ (54)
’’ اب آپ انہیں ایک مدتّ کے لئے اسی گمراہی میں چھوڑ دیں‘‘
اب انہیں اسی حزب بازی میں ایک مدت تک کے لئے غرق رہنے دو۔
أَيَحۡسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِۦ مِن مَّالࣲ وَبَنِينَ(55)
’’ کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم جو کچھ مال اور اولاد دے رہے ہیں‘‘
یعنی کیا یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ ان کے پاس یہ جو مال و دولت اور افرادی قوت ہے (بنین یعنی قبیلے کے تمام افراد) جس پر وہ ناز کرتے ہیں یہ سب ہم نے ان کو دیا ہے!
نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ بَل لَّا يَشۡعُرُونَ(56)
’’تو ہم انہیں تیزی سے بھلائی پہنچا رہے ہیں؟ نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔‘‘
امت کی تقسیم بہت بڑا جرم
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو مال اور اولاد ہم انہیں دیتے ہیں وہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم ان کے لیے جلد بازی کر رہے ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جو دولت اور افرادی قوت ان کے پاس ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ ان کی مدد کر رہا ہے؟
نہیں، اللہ فرماتا ہے، وہ بالکل بے خبر اور جاہل ہیں۔ انہوں نے ایک سنگین جرم کیا ہے: انہوں نے امت کو توڑا، اس کے اتحاد کو تباہ کیا، اسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا، اور پھر جماعتیں اور تنظیمیں بنائیں- اور اللہ کے منشور کو چھوڑ کر اپنے اپنے منشور تیار کئے اس کے بعد وہ اس کیے پر خوش ہیں۔
اللہ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ بڑے بے خبر ہیں۔ اتحاد کو تباہ کرنے والوں کی اللہ کیسے مدد کرے گا؟ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے والوں کو اللہ کیسے وسائل فراہم کرے گا؟ حکم الٰہی یہ تھا کہ امت اور اس کے اتحاد کی حفاظت کی جائے۔ یہی اہم ترین تقویٰ ہے۔
امت کی حفاظت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ وجود میں آئے۔ پہلا مرحلہ امت کی تشکیل کا ہے۔ امت بننے کے بعد اتحاد پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد امت کی حفاظت کا مرحلہ ہے۔ قرآن میں ایک دوسرے کے ساتھ متعدد امتوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں ایک امت ہو، ہندوستان میں ایک ہو، ایران میں ایک الگ امت ہو، ہر ملک میں اپنی اپنی الگ امت ہو۔ بلکہ پورے عالم اسلام کی ایک امت تشکیل پانا چاہیے۔
امت کی تشکیل کا کام کون کرے گا؟
لیکن سوال یہ ہے کہ امت کی تشکیل کا کام کون کرے گا؟ یہ کس کے ذریعے کیا جائے گا؟ رسولوں اور اماموں کے ذریعے۔
امت کو امام کی ضرورت ہے۔ بغیر امام کے امت کی تشکیل ممکن نہیں۔ علم منطق کی ایک اصطلاح ہے متضایفین: ایک چیز کے تصور سے دوسری چیز کا تصور خود ذہن میں آ جائے۔ یعنی دو چیزوں میں رابطہ اتنا گہرا ہے کہ ایک کے تصور سے دوسری کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے۔ اور وجود پانے کے لئے دونوں چیزوں کا ایک ساتھ موجود ہونا ضروری ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ دو متضایف چیزوں میں ایک موجود ہو اور دوسری موجود نہ ہو۔ دونوں کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔
اس کی سادہ سی مثال ’’اوپر‘‘ اور ’’نیچے‘‘ ہے۔ یا ’’چھت‘‘ اور ’’فرش‘‘ ہے۔ ’’اوپر‘‘ اسی وقت وجود پائے گا جب ’’نیچے‘‘ ہو اور ’’نیچے‘‘ اسی وقت تحقق پائے گا جب ’’اوپر‘‘ ہو۔
اگر آپ آسمان کے نیچے کسی کھلے میدان میں کھڑے ہیں، جس میں آپ کے اوپر آسمان کے علاوہ کچھ نہیں ہے، تو آپ یہ نہیں کہتے کہ آپ "نچلی منزل” پر ہیں، کیونکہ وہاں کوئی اوپری منزل نہیں ہے۔ نچلی منزل اسی وقت وجود میں آتی ہے جب اوپری منزل ہو۔ اگر نچلی منزل ہے تو اوپری منزل بھی ہونی چاہیے۔ لہذا، اوپری اور نچلی متضایف correlatives ہیں.
اسی طرح امامت اور امت آپس میں متضایف ہیں۔ ان کا تعلق ایسا ہے کہ امامت کا امت کے بغیر ہونا ناممکن ہے اور نہ ہی کسی امت کا بغیر امامت کے ہونا ممکن ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے یہ دعویٰ کرنا کہ اوپری منزل کے بغیر نچلی منزل ہے۔
امامت اور امت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ دونوں کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔ یہ تصور مزید وضاحت کا متقاضی ہے، جسے میں بعد میں بیان کروں گا، انشاء اللہ۔
دوسرا خطبہ
خطرات سے بچنے کے لیے خدا کا حفاظتی انتظام
تقویٰ ایک حفاظتی اقدام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے لیے فراہم کیا ہے۔ تقویٰ کے اندر، انسان محفوظ رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر پیدا کیا اور جس طرح زمینی زندگی نعمتوں اور برکتوں سے بھری ہوئی ہے اسی طرح زمین پر خطرات، آفات اور حادثات بھی موجود ہیں۔
جب اللہ نے ہمیں ایسی خطرناک جگہ پر زندگی بسر کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے ان خطرات سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات بھی کیے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ جب حکومتیں اپنے اہلکاروں اور ملازمین کو خطرناک خطوں میں بھیجتی ہیں تو ان کے تحفظ کے مکمل انتظامات کرتی ہیں۔
یہ دنیا کا قانون ہے: جہاں خطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں حفاظتی انتظامات زیادہ ہوتے ہیں۔
اس لیے دنیاوی زندگی تقویٰ کا سخت تقاضا کرتی ہے۔ تقویٰ کے بغیر دنیاوی زندگی کا مطلب ہے اپنے آپ کو تباہی اور بربادی میں ڈال دینا۔
اور عملی طور پر اگر ہم روئے زمین کی موجودہ حالت کا مشاہدہ کریں تو بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان خود وحشی اور درندہ بن گیا ہے۔ تقویٰ کے بغیر انسان درندہ حیوان بن جاتا ہے۔ تقویٰ کے بغیر معاشرہ، سماج، حکومت، اور حکمران سب وحشی بن جاتے ہیں۔
بغیر تقویٰ کے ہر چیز خطرہ
جب ان میں سے کوئی چیز تقویٰ کے بغیر موجود ہو تو خود ہی خطرات میں بدل جاتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص تقویٰ کے بغیر مال حاصل کرتا ہے تو وہ مال اس کے لیے اور دوسروں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ تقویٰ کے بغیر اگر کوئی شخص حکومت حاصل کرتا ہے تو یہ حکومت سب کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
تو اللہ کا قانون لاگو ہوتا ہے:
’’اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے سے نہ ہٹاتا تو زمین میں فساد ہو جاتا۔‘‘
اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو دوسروں کے ذریعے روک کر نہ رکھے، تو زمین فساد سے بھر جائے گی۔ زمین پر خطرہ اس حد تک بڑھ جائے گا کہ یہ رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ انسانی زندگی ناممکن ہو جائے گی۔ لوگ ذلت، غلامی اور تنزلی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے-
اس لیے ضروری ہے کہ آپ ان کو روکیں جو حیوان اور وحشی درندہ بن چکے ہیں۔ یہ پوری انسانیت کا فرض ہے۔ یہ ایک آفاقی فرض ہے۔
اس کے باوجود ہم سب موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ قرآنی فریضہ یہ ہے کہ کچھ لوگ حملہ آوروں اور درندوں کو جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں انہیں روکیں۔
خطرات کے خلاف مزاحمت کی ضرورت
ان خطرات کے خلاف مزاحمت کی ضرورت ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے: اگر کچھ لوگ مزاحمت نہیں کریں گے اور درندہ صفت لوگ زمین پر فساد پھیلاتے پھریں گے تو ساری زمین فساد سے بھر جائے گی اور پوری انسانیت تباہ ہو جائے گی۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ واقعی یہ فرض ادا کر رہے ہیں- جارحیت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں، درندگی، وحشت اور ظلم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ لیکن باقی لوگ اپنا قرآنی اور انسانی فرض پورا نہیں کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کا شمار مجرموں میں کیا جائے گا، جو اپنے دور کے خطرناک درندوں کو نہیں روکتے۔
قرآنی تعلیمات اور مکتبِ اہل بیت کی روشنی میں یہ لوگ مجرم ہیں۔
میدان جنگ میں آ جاؤ
جس طرح بھی ہو سکے مزاحمت کرو۔ ہتھیار اٹھا سکتے ہو تو ہتھیار اٹھا لو۔ میدانِ جنگ میں جا سکتے ہو تو میدانِ جنگ میں جاؤ۔ لیکن جنگ کی نوعیت اور حملے کی نوعیت کو سمجھ کر اقدام کرو۔ آج، حملہ بنیادی طور پر ہتھیاروں سے زیادہ پروپیگنڈے کا حملہ اور میڈیا کا حملہ ہے۔
میڈیا دہشت پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ آج خوفزدہ ہیں وہ شیطانی میڈیا سے خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ عرب ممالک خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ صہیونی میڈیا نے عربوں کو خوفزدہ کیا ہے۔ طاقتور لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ مسلمان تقریباً سبھی خوفزدہ ہیں، اس حد تک خوفزدہ ہیں کہ وہ ظالم کے آگے سجدہ کرنے کو تیار ہیں اور اس کی مذمت کرنے کے بجائے ذلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یہ خوف کیسے پھیلا؟ میڈیا کے ذریعے۔ آپ مسلسل سنتے ہیں: امریکی بحری بیڑا پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے خطرناک جہاز پہنچ گئے امریکہ کا خصوصی طیارہ قطر پہنچ گیا امریکہ ایٹمی ہتھیار لے آیا ہے۔ یہ دھمکیاں ان لوگوں میں خوف پیدا کرتی ہیں جو اس میڈیا کو استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تصادم سے بچنے اور جنگ میں تاخیر کرنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔
نظام قدرت میں طاقت کا توازن اہم نہیں
لیکن یہ میڈیا اللہ کے نظام سے ناواقف ہے۔ شیطانی میڈیا نہیں جانتا کہ ابابیل اور ابرہہ کے ہاتھیوں کے درمیان طاقت کا توازن نہیں تھا۔ طالوت اور جالوت کے درمیان طاقت کا توازن نہیں تھا۔ ’’کتنے چھوٹے گروہ نے اللہ کے حکم سے ایک بڑے گروہ پر غلبہ پا لیا ہے۔‘‘
جنگ بدر میں طاقت کا توازن نہیں تھا۔ ایک ہزار مسلح جنگجو تین سو تیرہ غیر مسلح مردوں کے خلاف کھڑے تھے۔ اور وہ تین سو تیرہ جنگ لڑنے کے ارادے سے بھی نہیں نکلے۔
وہ ایک قافلہ یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ روکنے کے لیے گئے۔ لیکن درمیان میں ابوجہل کا لشکر بھی پہنچ گیا، کیونکہ منافقوں نے انہیں اطلاع کر دی تھی۔
مسلمان جنگ کے لیے بالکل تیار نہیں ہوئے۔ اور اگر وہ تیار بھی ہوتے تو یہ صرف اس حد تک ہوتا جس حد تک وہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بزرگوں سے فرمایا تھا کہ اپنی داڑھی کو خضاب لگاؤ تاکہ وہ جوان نظر آئیں۔
چند جنگجو تھے۔ نہ تلواریں تھیں، نہ نیزے، نہ گھوڑے، نہ ڈھال۔ یہ سب نایاب تھے۔
اس کے باوجود وہ جنگ جیت گئے۔ شرط یہ ہے کہ حیدر کرار کا جنگ میں موجود ہونا ضروری ہے۔ پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کم ہیں یا زیادہ- آپ جنگ جیت سکتے ہیں۔
جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا، آج کا مسئلہ یہ ہے کہ حیدر کرار غائب ہے۔ اپنے دور میں علامہ ان کی تلاش میں تھے اور درحقیقت وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔
کیونکہ علامہ کے زمانے میں نہ امام خمینی ظاہر ہوئے تھے اور نہ ہی امام خامنہ ای۔ لیکن اقبال کی وراثت والی نسل نے اپنی آنکھوں سے گواہی دی ہے کہ اب حیدر کرار موجود ہے۔
جنگ احد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امیر المومنین حیدر کرار اور سید الشھدا جناب حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کے لیے گئے تو منافقین نے بہت خطرناک قدم اٹھایا۔ وہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے لیکن درمیان میں میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ پہلے ہی مشرکوں کے ساتھ اتحاد کر چکے تھے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ثابت قدم نہیں رہیں گے۔ جب جنگ کا ماحول شدت اختیار کر گیا تو انہوں نے میدان چھوڑ دیا۔
پھر کچھ اور تھے جو منافق نہیں تھے بلکہ لالچی تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہاڑ کی گھاٹی میں حفاظت کے لیے تعینات کیا تھا۔ جب انہوں نے مال غنیمت کو جمع ہوتے دیکھا تو مال غنیمت کی طرف بھاگے۔ اس کے نتیجے میں جنگ احد میں شدید نقصان ہوا۔
اسی طرح کربلا میں جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کفر، شرک اور ظلم کے خلاف اٹھے تو اہل حجاز عبادت میں مشغول تھے، اہل مدینہ و مدینہ زیارت میں مصروف تھے، اور کوفہ خوفزدہ ہو گیا تھا۔ کوفہ اپنی اندرونی کمزوری کی وجہ سے میدان جنگ میں نہ پہنچ سکا اور کربلا کا سانحہ پیش آیا۔
غزہ کی جنگ میں پوری دنیا نے وہی تصویر پیش کی جو کوفہ کی تھی۔ حجاز اور کوفہ کو دہرایا گیا۔ غزہ کی جنگ میں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا نہیں کیا گیا۔
اس طرح، اگر آپ احد سے غائب ہیں، تو آپ کو منافق کہا جاتا ہے۔ اور اگر آپ کربلا سے غائب ہیں تو آپ کو بزدل کہا جاتا ہے۔ بزدل منافق سے بھی بدتر ہے۔ بزدل وہ ہے جو مدد کر سکتا ہے، لیکن اس نے مدد نہیں کی۔ ایسا شخص بڑا مجرم ہے۔
سوشل میڈیا پر رہبر کی حمایت کا اعلان کریں
آج، حمایت مشکل نہیں ہے؛ حمایت کے ذرائع وسیع ہیں۔ آپ اپنے موبائل فون اپنے فیس بک یا کسی دیگر سوشل میڈیا کے اکاونٹ سے اپنی حمایت کا اعلان کر سکتے ہیں اور دشمن کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ آپ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دشمن میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے، اور آپ کے فون پر ہونے والی ایک ایک کارروائی دشمن کی طرف سے ریکارڈ کی جاتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کھل کر کہا کہ اینڈرائیڈ فون ان کا ہتھیار ہے جو انہوں نے آپ کے درمیان نصب کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ان فونز کو حزب اللہ اور ایران پر حملوں میں استعمال کیا۔ فون ان کے ہیں، سافٹ ویئر ان کے ہیں، نیٹ ورکس ان کے ہیں، اور تمام ڈیٹا ان کے پاس جاتا ہے — تجارتی اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
لیکن اگر آپ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے ہیں – ایران کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے، اپنے اکاؤنٹس سے اس کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں کہ آپ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، رہبر انقلاب کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ تو یہ دشمن کا منہ توڑ جواب ہے۔
آپ اعلان کریں کہ آج آپ حق کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یہ کہ حق کا جھنڈا رہبر انقلاب کے ہاتھوں مین ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ رہبر اکیلے کھڑے ہیں۔ جب انہوں نے کہا کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو یہ دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ پورے خطے کی جنگ ہوگی، یعنی ہر گلی اور ہر زمین پر لڑی جائے گی، یہ پیغام دنیا تک پہنچنا چاہیے۔
اگر وہ حملہ کرتے ہیں، جیسا کہ وہ دھمکی دے رہے ہیں، تو دنیا میں کہیں بھی امن نہیں رہے گا۔ اگر وہ ایران پر حملہ کرتے ہیں اور رہبر معظم کو نشانہ بناتے ہیں تو کیا وہ عراق، عرب ممالک، ہندوستان، پاکستان، ترکی، آذربائیجان، یورپ یا افریقہ میں آزادانہ گھومتے پھریں گے؟۔ وہ سفارت خانے، کمپنیاں اور اسکول بند کرنے اور امریکہ واپس جانے پر مجبور ہوں گے۔
کیونکہ اللہ کی مخلوق میں ایسے بزدل ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ اتحاد کیا، جنہوں نے ذلت قبول کی، لیکن اس سرزمین پر حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔ اس سرزمین پر حسین کے لشکر ہیں جو موت کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی نہیں ڈرتے۔
یہ وہ پیغام ہے جو آپ کو ان تک پہنچانا چاہیے۔ یہ پیغام انہیں کسی بھی چیز سے زیادہ خوفزدہ کرتا ہے۔ آپ کو یہ پیغام ہر ممکن طریقے سے پہنچانا چاہیے۔
11 فروری رہبر کے ساتھ عملی اظہار یکجہتی کا دن
ایسا کرنے کا ایک طریقہ، انشاء اللہ، 11 فروری ہے۔ 11 فروری کو ہم گھروں سے نکل کر جارحین سے نفرت کا اظہار کریں گے وہ کسی بھی چیز سے زیادہ اس سے ڈرتے ہیں کہ دنیا کے لوگ ان کے خلاف ہو جائیں۔ وہ میزائل سے ڈرنے سے زیادہ عوامی جذبات سے ڈرتے ہیں۔ یہ جذبہ ظاہر کرنا چاہیے۔ اور آپ کو اس جذبے کو لے کر میدان میں آنا چاہیے۔ پاکستان بھر، گلی گلی، کوچہ کوچہ، جہاں کوئی منظم اجتماع نہ ہو، چاہے لوگ باہر نہ نکلیں، آپ خود موجود ہیں۔ یہ آپ کا شہر، آپ کا محلہ، آپ کا گاؤں ہے۔ اگر ضروری ہو تو اکیلے باہر آئیں۔ حمایت اور یکجہتی کا پرچم بلند کریں۔ اپنے سر پر حسین کی حمایت اور بیعت کی پٹی باندھیں اور رہبر کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کریں۔ اسے میڈیا پر اپ لوڈ کریں۔
آپ کی یہ ایک تصویر میزائل سے زیادہ طاقت رکھتی ہے۔
رہبر انقلاب کے حق میں جذبات کو اب جسمانی شکل اختیار کرنی چاہیے۔ دلی جذبات اب کافی نہیں ہیں۔ ٹرمپ نہیں دیکھ سکتا کہ آپ کے دل میں کیا ہے۔
اب آپ سڑکوں پر اس جذبے کا مظاہرہ کریں۔ آپ اسے میڈیا پر ضرور دکھائیں۔
اور انشاء اللہ وہ اتنا بزدل ہے کہ تمہارا جذبہ دیکھ کر اکیلا تمہارے نعروں اور تمہارے عزم سے ہی تباہ ہو جائے گا۔
اب تک صرف ہمارے رہبر نے جواب دیا ہے کہ اگر آپ نے غلطی کی، حملہ کرنے کی حماقت کی تو یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی-
جب وہ رہبر معظم کے چاہنے والوں کا جذبہ دیکھے گا تو ان شاء اللہ اسے احساس ہوگا کہ آج حسین تنہا نہیں، آج دنیا کوفہ نہیں، آج ہم اہل کوفہ نہیں ہیں۔
ہم اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں، فلسطین، غزہ اور لبنان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس راستے پر یا تو ہمیں بدر و خیبر جیسی فتح نصیب ہو گی یا کربلا جیسی شہادت نصیب ہو گی۔ جو بھی نتیجہ نکلے وہ ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے اور ہمارے اماموں کا راستہ ہے، انشاء اللہ 11 فروری تک آپ کو میڈیا کے ذریعے جواب دینا ہوگا، اور 11 فروری کو سڑکوں پر جواب دینا ہوگا۔
یہ حکمران بن سلمان اور آل نہیان ٹرمپ کے ساتھی ہیں۔ وہ مسلمانوں کے وفادار نہیں ہیں۔ وہ غدار ہیں۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر ہر غداری کی ہے اور مزید کرنے کو تیار ہیں۔ اگر وفاداری ہے تو صرف امام حسین علیہ السلام کے پیروکاروں میں ہے، غازی علمدار کے ماننے والوں میں ہے۔
زندگی بھر وفاداروں کے ماتم میں گزری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاداری کا مظہر بنیں اور وفاداری کا مظاہرہ کریں۔ انشاء اللہ ہم سب کو مل کر پاکستانی قوم کو بیدار کریں گے۔ رہبر کو پاکستان سے بھی بہت امیدیں ہیں، جس طرح کبھی فلسطینیوں کو ہم سے امیدیں وابستہ تھیں، جنہیں ہم نے مایوس کیا۔ لیکن انشاء اللہ ہم رہبر کو مایوس نہیں کریں گے۔ اس دن تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں انشاء اللہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے اور اپنے رہبر کو لبیک کہیں گے۔
اللہ رب العزت تمام دنیا کے مظلوموں کو ظلم و جبر سے محفوظ رکھے۔
