امام ہے تو امت کی ضرورت ہے۔ امام کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کے گرد امت جمع ہو۔ اور امت وہ اجتماع ہے جو امام کے گرد جمع ہے اور اس کا راستہ وہی ہے جو امام کا راستہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اس کا مقصد وہی ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔ یہ امت کا مفہوم ہے، قرآنی اصطلاح میں امت کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
ناس سے امت تک: اتحاد کا قرآنی منصوبہ
امت سازی کے لیے اللہ کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق انبیاء علیہم السلام نے انسانوں کو ابتدائی حالت سے نکال کر امت کی طرف لانے کی کوشش کی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ قرآن نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام نے لوگوں کو امت کی شکل دینے کی کوشش کی، لیکن پھر بھی بعض نے امت کو توڑ کر مختلف فرقوں، جماعتوں اور تنظیموں میں بدل دیا۔ اس طرح جہاں جہاں انبیاء کرام علیہم السلام امت بنانے میں کامیاب ہوئے، وہاں کچھ لوگوں نے اس امت کو توڑا، اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
سورہ مومنون میں حفاظت امت کا حکم
یہ مرحلہ بہت اہم ہے، کیونکہ ہدایت کی بنیاد امت سازی پر ہے، پہلے مرحلے میں امت سازی اور پھر امت کی حفاظت ہے۔ سورۃ المومنون کی آیات 52 اور 53 میں امت کے تحفظ کے بارے میں حکم دیا گیا ہے: کہ امت بنانے کے بعد امت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے اور مختلف عوامل امت کو توڑنے کا سبب بنتے ہیں۔
اور امت کے لیے دوسرا ستون جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ ہے ربوبیت:
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ
’’میں تمہارا رب ہوں۔‘‘ امت کو باندھنے کی رسی اللہ کی ربوبیت ہے۔ اور جب لوگوں کو اللہ کی ربوبیت سے نکال کر اللہ کے شریکوں یا اللہ کے سوا دوسروں کی ربوبیت میں دھکیل دیا جائے یا بعض لوگ خود دوسروں کی ربوبیت کرنے لگ جائیں تو یہیں سے امت کو توڑنے کا کام شروع ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں امت سازی اور امت کی حفاظت کے لیے حکم بیان کیا ہے: لیکن ہماری دینی فہمی میں یہ دونوں موضوع یعنی امت اور امامت گم ہو چکے ہیں۔ امامت جو باقی بھی ہے وہ روح امامت کے بغیر باقی ہے۔ کیونکہ امامت کی روح نظام ہے۔ امامت کو نظام کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ امامت کو صرف ایک عقیدہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ امت کا تذکرہ شروع سے ہی بھلا دیا گیا۔ جبکہ امامت کا صرف ذکر باقی ہے۔
امت مسلمہ اور نظام امامت کی فراموشی
تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمام مسلمانوں، تمام کلمہ پڑھنے والوں یا قرآن کی تلاوت کرنے والوں نے امامت کا ذکر باقی رکھا۔ بلکہ صرف ایک مکتب فکر شیعہ اثنا عشری نے امامت کے نام کو زندہ رکھا، لیکن روح امامت سے وہ بھی محروم رہے۔ دوسرے لوگ امامت کے لفظ سے بھی دور ہو گئے۔ انہیں امامت کے متبادل الفاظ دیے گئے اور وہ ان اصطلاحات اور تصورات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن امت کو شیعوں اور غیرشیعوں، یا امامت کے ماننے اور نہ ماننے والوں دونوں نے فراموش کر دیا۔ حتیٰ کہ وہ اس لفظ اور عنوان کو ہی بھول گئے۔ جبکہ قرآن نے امامت اور امت دونوں کو نمایاں طور پر پیش کیا اور انہیں ہدایت کا سرلوحہ بنایا۔
قرآن میں امت و امامت کا جابجا ذکر
اب بعض جگہوں پر ایک آیت کے اندر امت اور امام کا عنوان نظر آتا ہے اور بعض جگہ خود امامت اور امت کا ذکر ہے لیکن امام اور امت کی اصطلاحات استعمال نہیں کی گئی ہیں۔ بلکہ امامت کا نظام، اس کی تفصیلات، یا اس کے کچھ پہلو کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ "صراط المستقیم” ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، اس میں نہ تو امت کا نام ہے اور نہ ہی امام کا لقب، بلکہ امت اور امامت کا مواد بیان کیا ہے: یہ سورہ فاتحہ مکمل طور پر امامت اور امت کا مواد ہے۔ اور اسی طرح قرآن کی دوسری آیات میں بھی اس موضوع کا جابجا ذکر موجود ہے۔
معرفت امام اور جاہلیت کی موت
کیونکہ امت اور امامت کی معرفت اور پہچان پہلا قدم ہے۔ جیسا کہ ائمہ طاہرین نے تاکید کی ہے: وہ لوگ جو امام کی معرفت کے بغیر مر جائیں ان کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری پوری نسل طاغوت اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ اپنی زندگی گزار کر مر جاتی ہے، امام کے خلاف یا امام کے متبادل راستوں پر چلتی ہے، جبکہ وہ مسلمان، مومن اور عبادتگزار بھی ہوتی ہے لیکن نہ امام کو پہچانتی ہے اور نہ ہی نظام امامت کا کوئی تصور رکھتی ہے۔ ہم اس کی موت کو بڑی بابرکت موت سمجھتے ہیں لیکن رسول اور اہلبیت رسول کے نزدیک وہ موت جاہلیت اور کفر کی موت ہوتی ہے۔
مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
معرفت کا مطلب امام کے نام یا نسب کو جاننا نہیں ہے۔ بلکہ نظام امامت کو سمجھ کر اس کے تحت زندگی گزارنا ہے لہذا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس نے نظام امامت کے تابع زندگی بسر نہ کی وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جاہلیت کی موت کا نتیجہ جنت نہیں جہنم ہے. جاہلیت کی موت مر کر آدمی جنت میں نہیں جاتا۔ وہ جہنم میں جاتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی خوفناک انجام ہے۔
دوسری طرف روایت میں ہے کہ اگر تم امام کو پہچاننا چاہتے ہو تو کیسے پہچانو گے؟ جیسا کہ حدیث میں ہے: اگر تم اللہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اسے اللہ کی ربوبیت سے حاصل کرو۔ اگر تم رسول کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اسے رسول کی رسالت سے حاصل کرو۔ اور اگر تم امام کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو امامت کے ذریعے حاصل کرو یعنی اپنے وقت کے امام کے نظام امامت میں زندگی بسر کرو۔
علامہ اقبال اور امامت کا تصور
اور یہی وہ نقطہ ہے جس کی علامہ اقبال نے ترجمانی کی ہے:
” تُو نے پُوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
فتنۂ ملّتِ بیضا ہے امامت اُس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے! ”
ہر نسل کا امام کون ہے؟ علامہ اقبال نے قرآن اور رسول کی تعلیمات سے جو سمجھا وہ یہ ہے کہ امام برحق وہ ہوتا ہے جو انسان کو موجودہ فساد، طاغوتیت اور ظلم سے نکال کر اللہ کی بندگی، اطاعت اور ربوبیت میں لے آئے، وہ امام برحق ہے۔ اور جو مسلمانوں کو بادشاہوں، ظالموں اور جابر حکمرانوں کا پرستار بنا دے امامت نہیں امامت کا فتنہ ہے۔
امت بیضا اور ملت اسلامیہ کے لیے علامہ اقبال کا جو پیغام تھا کاش علماء اس کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
قرآن نے بھی امامت اور امت کی تصویر کو انہی واضح الفاظ میں بغیر کسی شک و شبہ کے پیش کیا ہے۔ اور رسول اللہ اور اہل بیت(ع) کی تعلیمات میں بھی ایسے موضوعات بالکل واضح ہیں۔
امت اور امامت کے درمیان نسبت
جیسا کہ پچھلے خطبے میں اشارہ کیا گیا، امت اور امامت کے درمیان ایک گہرا رشتہ اور باہمی انحصار پایا جاتا ہے. میں نے آپ کو "تضایف” کی مثال دی تھی۔ "تضایف” سے مراد وہ دو چیزیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا تصور دوسری کے تصور کے لیے کافی ہے۔ یعنی ان میں سے ایک کبھی بھی موجود نہیں پا سکتی جب تک کہ دوسری نہ ہو۔ جیسا کہ "اوپر” اور "نیچے” کی مثال دی گئی تھی: جب آپ کہتے ہیں کہ "یہ اوپر ہے”، تو "اوپر” کا تصور تب ہی وجود میں آتا ہے جب "نیچے” بھی موجود ہو۔ "اوپر” اکیلے موجود نہیں ہو سکتا؛ "اوپر” کے وجود میں آنے کے لیے "نیچے” کی ضرورت ہے، اور "نیچے” کے وجود میں آنے کے لیے "اوپر” کی ضرورت ہے۔ ایسی بہت سی حقیقتیں ہیں جن کے ساتھ ہم رہتے ہیں، جن کے اندر باہمی انحصار کا یہ رشتہ موجود ہے۔ یہ عربی اصطلاح ہے۔
امامت اور امت دو ایسے ہی باہمی منحصر سماجی اور اجتماعی تصورات ہیں: امامت ایک نظام ہے، اور امت اس نظام اور اس کی اجتماعی ساخت کا ستون ہے۔ امام اور امامت کے بغیر امت وجود میں نہیں آتی۔ وہ تصور میں بھی موجود نہیں ہیں۔ تصور میں بھی جب امام کا تصور آتا ہے تو امت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور جب آپ امت کو تصور کرتے ہیں تو امامت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ تحریف شدہ امامت اور امت نہیں جو ہمارے ذہنوں میں موجود ہے- بلکہ قرآنی امامت اور امت ہے۔ کیونکہ لغوی اعتبار سے بھی ان دونوں الفاظ کی جڑ ایک ہی ہے۔ جس لفظ سے "امام” نکلا ہے اسی لفظ سے "امت” بھی نکلا ہے، دونوں کی بنیاد اور جڑ ایک ہے۔
امام، امت اور ام کی لغت شناسی
یہ لفظ "امام یا امت” جس سے "ام” بھی بنا ہے، ایک مادہ رکھتا ہے۔ جیسا کہ کئی بار اس بات کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے کہ عربی میں ہر لفظ کے ستر معنی ہوتے ہیں۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ جس طرح آپ سب کے ہاتھ میں قرآن ہے اور آپ سب کے ذہنوں میں یہ ہے کہ قرآن میں 6666 آیات ہیں- یہ قرآن جسے آپ خود پکڑے ہوئے ہیں کہتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ قرآن میں 6666 آیات نہیں ہیں۔ لیکن یہ آپ کے ذہن میں ہے۔ جیسا کہ آپ کے ذہن میں یہ ہے کہ زمین چار عناصر سے بنی ہے، جبکہ زمین خود کہتی ہے: یہ جھوٹ ہے۔ زمین چار چیزوں سے نہیں بنی۔ بہت سے عناصر ہیں. "چار عناصر” یعنی پانی، مٹی، آگ اور ہوا – یہ ذہن میں ہے عناصر چار ہیں، آیات 6666 ہیں، اور ہر عربی لفظ کے ستر معنی ہیں۔ یہ توہمات اور بے بنیاد باتیں ہیں، جو ہمارے ذہنوں میں جڑ پکڑ چکی ہیں۔
عربی میں ہر لفظ کا ایک ہی معنی ہوتا ہے۔ جس طرح لفظ ایک ہے اسی طرح معنی بھی ایک ہیں۔ تاہم، معنی کی خصوصیات، حالتیں، اور اس کے لوازمات موجود ہیں؛ ان کے اعتبار سے ایک لفظ دوسرے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک تلوار ہے: بنیادی طور پر اس کا ایک لفظ ہے، لیکن تلوار کی مختلف حالتیں ہیں؛ کبھی وہ نیام میں ہوتی ہے، کبھی نیام سے باہر، کبھی اس کی دھار تیز ہوتی ہے، کبھی اس کی دھار کند ہوتی ہے، کبھی یہ جنگ میں چمکتی ہے، کبھی زمین پر پڑی ہوتی ہے۔ یہ تلوار کی مختلف حالتیں ہیں اور ہر حالت کا الگ نام ہے۔ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ ہر لفظ کے ستر معنی ہوتے ہیں یا ہر معنی کے ستر الفاظ ہوتے ہیں۔ ایک لفظ اور ایک معنی ہے۔
لہٰذا، "ام” "امام” اور "امت” کا عربی میں ایک ہی مادہ ہے اور وہ "الف میم میم” ہے۔ ام یعنی ماں، امام یعنی پیشوا اور امت یعنی سماجی ڈھانچہ جو انسانی معاشرے سے مل کر بنتا ہے۔ وہ اصل اور بنیادی چیز – لغوی طور پر – جو ایک مرکز بن جاتی ہے، اور اس کے ساتھ ملتی جلتی چیزیں، اس کے ساتھ مشابہت اور یکسانیت رکھتی ہیں۔ جنہیں "مماثل” کہا جاتا ہے: دو چیزیں جن میں آپ کو یکسانیت نظر آتی ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی مماثلت نہیں پائی جیسے پتھر اور درخت، ان میں کبھی یکسانیت نہیں آ سکتی۔ لیکن کچھ درخت ایسے ہیں جن میں دوسرے درختوں کے ساتھ مکمل یکسانیت پائی جاتی ہے لہذا وہ چیزیں جن میں یکسانیت ہوتی ہے ان میں جب ایک چیز مرکز اور محور بن جاتی ہے اور باقی سب چیزیں اس سے اپنا ربط قائم کر لیتی ہیں تو اس مرکزی چیز کو "ام” کہتے ہیں۔
وہ چیزیں جو آپس میں مماثلت اور تشابہ رکھتی ہیں ان کی مماثلت اور مشابہت دو نوعیت کی ہو سکتی ہے کبھی اندرونی رجحان اور کشش کی وجہ سے ہو سکتی ہے اور کبھی بیرونی رجحان اور کشش کی وجہ سے۔ یعنی ممکن ہے کبھی کوئی بیرونی محرک اور عنصر ان کے ایک ساتھ مل جانے کا سبب بنے یا اندرونی محرک اور عنصر۔
مثال کے طور پر ہم جمعے کے لیے جمع ہوئے ہیں، یہ ایک اندرونی عنصر کی وجہ سے ہے۔ وہ بیرونی عنصر حکم خدا ہے۔ یعنی بیرونی محرک کی وجہ سے اگر کچھ یکساں چیزیں ایک ساتھ جمع ہوں اور وہ چیزیں اگر کسی ایک مرکز یا محور کے اردگرد جمع ہوں تو اس مرکز کو عرب "ام” کہتے ہیں۔
ام کو ماں کے معنی میں اسی لیے لیا جاتا ہے کہ چونکہ اولاد ماں کے اردگرد جمع ہوتی ہیں۔ اور قرآن نے بھی لفظ ام کو اسی معنیٰ میں استعمال کیا ہے۔ اسی سے لفظ "امت” بھی نکلا ہے۔ امت سے مراد وہ اجتماعیت ہے جو ایک مرکز میں اکٹھی ہو جائے۔ جس مرکز کے گرد وہ جمعیت اکٹھی ہو اس کو "ام” کہتے ہیں۔
آپس میں مماثلت، مشابہت اور یکسانیت جیسی صفات رکھنے والی جمعیت اگر ایک مرکز کے گرد جمع ہو جائے تو اسے عرب امت کہتے ہیں۔ ایک مرکز پر جمع ہونے کے اسباب ممکن ہے اندرونی اسباب ہوں اور ممکن ہے بیرونی اسباب ہوں۔ ممکن ہے مادی چیز ہو اور ممکن ہے معنوی چیز ہو۔ جیسے کسی نظریہ، عقیدہ، مقصد یا ضرورت کی وجہ سے وہ ایک ساتھ جمع ہو جائیں۔
اور امام بھی اسی ام سے ہے۔ اس معنی میں ہم امام اس مرکزی نقطے کو کہیں گے جس کے گرد یہ جمعیت اکٹھا ہو جائے۔ یعنی اس منتشر اور بکھری ہوئی جمعیت کے اندر کسی نظریہ کی وجہ سے یکسانیت پیدا ہو اور پھر وہ ایک مرکزی نقطے پر جمع ہو جائے اس مرکزی نقطے کو امام کہا جائے گا۔
اگر اولاد ایک مرکزی نقطہ پر جمع ہو تو اس مرکزی نقطے کو ام کہا جائے گا اور اگر عام جمعیت ایک مرکز پر جمع تو اسے امام سمجھا جائے گا۔
لغت میں، امت، ام اور امام کے الفاظ انسانوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں۔ انسان ان کے مصادیق میں سے ہیں۔ البتہ قرآنی اصطلاحات میں یہ الفاظ انسانوں سے مخصوص ہیں۔ لیکن لغت میں یہ صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ لغت میں، اس چیز کی مرکزیت مراد ہے، چاہے وہ انسان ہو، یا غیر انسان، مادی چیز ہو، کوئی معنوی، زمینی ہو یا آسمانی۔
قرآن میں ام، امام اور امت کا کن معنیٰ میں استعمال
قرآن کریم نے چونکہ عرب الفاظ کو ہدایت کے لیے استعمال کیا ہے اور وہ عربی الفاظ جو عرب اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے تھے انہیں الفاظ کو قرآن نے اپنے معانی ادا کرنے کے لیے اخذ کیا اور ان کے لغوی معنیٰ یعنی وہ معنیٰ جن میں عرب استعمال کرتے تھے انہیں میں قرآن نے استعمال کیا۔ لیکن مفسرین اکثر اس کے برخلاف تفسیر کرتے ہیں جس کی مثال میں بارہا دے چکا ہوں۔ جیسے لفظ تقویٰ ہے مفسرین جب اس لفظ کے معنیٰ بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ لغت میں لفظ تقویٰ کے معنی ہیں "تحفظ” لیکن قرآن میں اس کے معنی "ڈر” کے ہیں۔ کیوں؟ ایسا کیا ہوا کہ آپ نے ایک لفظ کو اس کے لغوی معنیٰ سے ہٹا کر دوسرے معنیٰ میں استعمال کر دیا۔ اللہ نے اس لفظ کو خود اس کے لغوی معنی یعنی تحفظ کے لیے ہی چنا ہے ڈر اور خوف کے لیے عرب دوسرا لفظ استعمال کرتے تھے اور اللہ نے اس کو بھی قرآن میں استعمال کیا ہے۔ اگر اللہ ڈرانے کے معنی کو ہی بیان کرنا چاہ رہا تھا تو وہ اسی لفظ کو استعمال کرتا جو عرب استعمال کرتے تھے جبکہ وہ بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے اور ڈر و خوب کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ "لاتخف”
اللہ نے جو لفظ چنا ہے وہ اسی خاص معنی کے لیے ہی چنا ہے اور وہ ہے حفاظتی تدبیر۔ خوف کے لفظ سے حفاظت کا مفہوم ادا نہیں ہو سکتا۔ لیکن مفسرین اور مترجمین نے اس کو ڈر کے معنیٰ میں اتنا استعمال کیا کہ اب یہی رائج ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں جہاں جہاں لفظ تقویٰ کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ سب ڈراؤنی آیات بن گئی ہیں۔ حفاظتی آیات کو مترجمین نے ڈراؤنی آیات بنا دیا۔
اسی طرح لفظ "ام”،”امت” اور "امام” کے لغوی معنیٰ کو ہی قرآن نے پیش نظر رکھا ہے اور انہیں معنیٰ کو پہنچانے کے لیے اللہ نے اس لفظ کا انتخاب کیا ہے۔ اور یہی معنیٰ اس میں باقی رہنا چاہیے۔ لیکن مفسرین نے لکھا ہے کہ لفظ امت سے مراد قرآن میں کسی جگہ پر جمعیت ہے کسی جگہ پر کتاب ہے کسی جگہ پر فرشتہ اور کہیں پر کچھ اور ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ امت کے اتنے معنی نہیں ہیں۔ امت کا ایک ہی معنی ہے اور وہ ہے جمعیت جس کو کسی ایک چیز نے کہیں پر اکٹھا کر دیا ہو۔ لغت میں اسے امت کہتے ہیں۔ قرآن نے اس لفظ کا اسی معنیٰ کے لیے انتخاب کیا ہے۔ اس لیے کہ یہ قرآنی اصول اور انسانی رہنمائی کا قرآنی نقشہ بیان کرنے کے لیے بہترین اصطلاح ہے۔
انسانوں کی فطرت واحدہ پر خلقت؛ انتشار کی وجوہات
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک فطرت پر پیدا کیا ہے لیکن انسانوں کے اندر فطرتاً کچھ ایسی چیزیں بھی موجود ہیں جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا بھی کرتی ہیں۔ انسان میں اندرونی طور پر متنوع خواہشات اور رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اور یہ خواہشات و رجحانات انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔
مثلا، ہم عام طور پر اپنے معاشرے میں نظر ڈالتے ہیں کہ ایک گھر میں کئی بھائی ہیں۔ ایک بھائی کو خود نمائی پسند ہے وہ اس خواہش کے اظہار کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے جبکہ دوسرے کسی بھائی میں مال و دولت کا رجحان زیادہ غالب ہو گا، تیسرے میں لڑکیوں کی طرف توجہ زیادہ پائی جاتی ہو گی۔ ہر ایک میں ایک نہ ایک خواہش اور رجحان کا غلبہ ضرور ہوتا ہے جبکہ سب کے اندر یہ تمام خواہشیں موجود ہوتی ہیں۔
ایک گھر میں تربیت پانے والے تین بھائی جن کی فطرت ایک ہے لیکن قدرتی طور پر نشو نما پانے والی خواہشات اور رجحانات تینوں میں مختلف نظر آ رہے ہیں جن کے نتیجے میں ان کی شخصیتیں اور ان کے کردار بھی مختلف بن چکے ہیں۔
اسی طرح ایک فطرت پر پیدا ہونے والے انسانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ تمام پہلو سب انسانوں کے اندر یکساں نمایاں نہیں ہوتے۔ ایک انسان کے اندر جو پہلو نمایاں ہوا ہے ممکن ہے دوسرے کے اندر وہ مر چکا ہو۔ اس طرح شخصیات انفرادی خصوصیات کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتی ہیں۔
پھر سب سے بڑی چیز جو ایک فطرت کے باوجود انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتی ہے وہ مفادات ہیں۔ انسان انتہائی حد تک مفاد پرست ہے۔ مفاد پرستی اللہ ہی کی جانب سے ودیعت کی ہوئی خواہش ہے تمام خواہشیں اللہ ہی کی تخلیق کردہ ہیں لیکن ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔ فطرت کے لحاظ سے انسان کے اندر تمام خواہشات الہی ہیں-
اللہ نے انسانوں کو ایک فطرت اور متنوع صلاحیتوں اور توانائیوں کے ساتھ پیدا کیا، اور یہ سب کچھ ایک چیز کے لیے رکھا ہے کہ انسان کی تخلیق کا ایک مقصد ہے، اس حقیقی مقصد کے لیے یہ سارا سامان دیا گیا۔ اگر انسان مقصد شناس اور مقصد پسند ہو، تو یہ تمام چیزیں ایک توانائی بن جاتی ہیں۔ جیسے ایک گاڑی ہے اس کے اندر جنتی توانائیاں اور صلاحیتیں ہیں اگر ایک سنجیدہ آدمی اس کے اسٹیرنگ پر بیٹھتا ہے تو وہ مقصد تک پہنچنے کے لیے اس کی ساری توانائیوں کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن جب وہی گاڑی کسی لاپرواہ نوجوان کے ہاتھ میں آ جاتی ہے تو اس گاڑی کی توانائیوں کو مقصد تک پہنچنے کے بجائے دوسرے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
انسان بھی متنوع اور غیرمعمولی توانائیوں کا مرکز ہے۔ اور یہ توانائیاں کسی مقصد کے لیے تھیں ان توانائیوں کے ساتھ انسان کو اسفل السافلین مثلا پہاڑ کے دامن میں رکھا گیا ہے اور مقصد کو پہاڑ کی چوٹی پر قرار دیا ہے کہ وہاں سے اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر مقصد حاصل کرے۔ لیکن اگر انسان ان توانائیوں کو وہیں پہاڑ کے دامن میں ضائع کرنا شروع کر دے اور مقصد کو بھول جائے تو مقصد پرست انسان مفاد پرست بن جاتا ہے۔ اور اپنی تمام تر توانائیوں کو مفادات کے حصول کے لیے صرف کر دیتا ہے۔
جب مفادات مقصد کی جگہ لے لیتے ہیں تو یہیں سے انسانوں میں انتشار پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہر کسی کے مفادات الگ ہوتے ہیں۔ اگر سب مقصد کی طرف متوجہ ہوں تو دو آدمیوں میں بھی جھگڑا نہیں ہوگا۔ لیکن جب سب مفادات کی طرف مائل ہوتے ہیں تو پھر جھگڑے ہی جھگڑے ہوتے ہیں چونکہ مفاد مفاد سے ٹکراتا ہے لیکن مقصد مقصد سے نہیں ٹکراتا۔ اور نہ ہی مقصد تک پہنچنے والا راستہ کسی سے ٹکراتا ہے چونکہ وہ راستہ صراط مستقیم ہے۔ ٹکراؤ مفاد میں ہوتا ہے، مفاد کے حصول کے راستوں میں ہوتا ہے اور مفاد کے وسائل میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہاں سے ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن بن جاتا ہے۔ بھائی بھائی کے خلاف ہو جاتا ہے۔ رشتہ دار رشتہ دار کے خلاف ہو جاتا ہے۔ یہیں سے ان میں فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ انسان جس کی فطرت ایک ہے، وہ مختلف گروہوں، جماعتوں، دھڑوں اور شکلوں میں بٹ جاتا ہے۔
اور جو انسان مفاد پرستی کی وجہ سے یہ شکلیں اختیار کرتا ہے اس کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ انسان کو مقصد کے لیے پیدا کیا گیا لیکن مفاد نے اسے مقصد سے دور کر دیا۔ اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا تو وہ مفادات اور تصادم کی جنگ میں الجھا رہے گا، اور مرتا اور مارتا رہے گا۔ مفادات اور اسباب کی جنگ جاری رہے گی۔
لہٰذا ان کی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے، انہیں یہ احساس دلانے کے لیے وہ اپنے مقصد کو بھول چکے ہیں وہ انسان ہیں اور انسانوں کی خلقت کا مقصد ہے اس مقصد کی طرف ان کی توجہ مبذول کروانے والی ایک مرکزیت کی ضرورت ہے۔ کوئی چیز ایسی ہو جو انہیں دوبارہ اکٹھا کرے۔
انسانوں کے اتحاد کے اسباب
پہلی چیز جو انسانوں کو جمع کرتی ہے وہ مقصد ہے۔ دوسری چیز جو انہیں اکٹھا کرتی ہے وہ مقصد تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ تیسری چیز وہ رہنما ہے جو انہیں اس راستے پر چلاتا ہے۔ یہ رہنما ہے جو انہیں جمع کرتا ہے، انہیں آگاہی دیتا ہے، منسجم اور متحد کرتا ہے، ان میں نظم و ضبط قائم کرتا ہے، اور ان کا رخ مقصد کی طرف موڑتا ہے۔ اس رہنما کا نام امام ہے۔ اور جو جمعیت جو مقصد، راستے اور رہنما کی خاطر اکٹھا ہوئی ہے وہ امت کہلاتی ہے۔
اور چونکہ یہ مقصد، راستہ اور ہدایت اللہ نے انسانوں کے لیے متعین کی ہے، اس لیے قرآنی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ نے جس امت کا حکم دیا ہے اس میں وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کے بتائے ہوئے مقصد، راستے، اور اللہ کے پیش کردہ رہنما کے گرد جمع ہوں گے اسے امت کہا جائے گا۔ لیکن جو لوگ مفادات یا دیگر معاملات کے گرد جمع ہوتے ہیں، لغت میں انہیں امت کہا جائے گا، لیکن قرآنی اصطلاح میں انہیں امت نہیں کہا جائے گا۔
قرآن نے انسانی معاشرے کا الہی نقشہ اور ڈھانچہ پیش کیا ہے کہ جب لوگ الہی منشور اور آئیڈیالوجی کے مطابق جمع ہوں گے تو وہ امت بن جائیں گے۔ لیکن اگر وہ مقصد الٰہی کے گرد جمع نہ ہوں تو وہ امت نہیں ہیں۔ ان کے دوسرے عناوین ہیں جیسے کہ اسی آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے:
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا
وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے
و كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
اور ہر حزب جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر خوش ہو گا۔ یعنی امت کو توڑ کر اسے حزبوں میں تبدیل کیا اور پھر حزب ہونے پر خوشیاں اور جشن منانے لگے۔
امام کے بغیر امت کی تشکیل ممکن نہیں
پس پہلا مرحلہ امت شناسی کا ہے کہ قرآنی اصطلاح میں دین کی وجہ سے اکٹھا ہونے والی جمعیت کو امت کہیں گے اور جس چیز کے گرد وہ جمع ہو گی اسے امام کہا جائے گا۔
لہذا، اگر جمعیت موجود ہے لیکن محور نہیں ہے یعنی امام نہیں ہے، تو امت نہیں بن سکتی اور اگر محور اور امام ہو لیکن اس کے گرد جمعیت نہ ہو تو اسے امامت نہیں کہا جاتا۔ جیسے اگر کوئی عورت ہے لیکن اس نے بچہ جنم نہیں دیا ہے تو اسے "ماں” نہیں کہا جا سکتا۔ وہ ماں تب ہو گی جب اس سے ایک بچہ جنم لے گا۔ اولاد کے بغیر ماں کو پکارنا بھی اس عورت کو برا لگتا ہے۔ بلکہ یہ ایک قسم کا الزام بن جاتا ہے اگر ایک کنواری عورت کو ماں کہا جائے – وہ ماں نہیں ہے کیونکہ بچہ اس کا نہیں ہے۔
امام ہے تو امت کی ضرورت ہے۔ امام کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کے گرد امت جمع ہو۔ اور امت وہ اجتماع ہے جو امام کے گرد جمع ہے اور اس کا راستہ وہی ہے جو امام کا راستہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اس کا مقصد وہی ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔ یہ امت کا مفہوم ہے، قرآنی اصطلاح میں امت کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
قرآن میں جہاں کہیں بھی امت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں قرآن نے اس لفظ کو اسی لغوی معنوں میں استعمال کیا ہے، اور اسی معنی میں اللہ نے مسلمانوں کے لیے امت کا نقشہ بنایا ہے۔
اس مفہوم کے بعد قرآن نے امت سازی کا مرحلہ پیش کیا کہ لوگ مفاد پرستی، نفس پرستی، یا ہویٰ و ہوس کی خاطر آپس میں بکھر جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ناس کا لفظ استعمال کیا۔ اس بکھرے ہوئے ریوڑھ کو دوبارہ امت کی شکل دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے امام مقرر فرمائے لہذا پہلا کام امت سازی کا ہے جب امت سازی کا مرحلہ مکمل ہو جائے تو ارشاد ہوتا ہے: ’’إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ‘‘ امت سازی کا کام مکمل ہوا اب امت واحدہ کی حفاظت کا مرحلہ ہے۔ اب کی حفاظت کی جائے۔
دوسرا خطبہ
پاکستان غلو اور ناصبیت کے فتنہ کا گہوارہ
امیر المومنین علیہ السلام نے تقویٰ کی وضاحت کرتے ہوئے حکمت نمبر 117 میں ارشاد فرمایا:
ھلک فِيّ رجُلَان مُحِبٌ غَالٍ وَمُبْغِض قَال
میرے بارے میں، دو طرح کے لوگ تباہ و برباد ہوں گے: ایک وہ محبت کرنے والے جو مبالغہ آرائی اور غلو کرتے ہیں، اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو ناصبی اور دشمن ہیں۔
یہ امیر المومنین علیہ السلام کا وہ نکتہ ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے دین کی حفاظت کا فارمولہ اور قاعدہ بیان فرمایا: وہ بڑے فتنے جن کی وجہ سے دین کو شدید نقصان ہوتا ہے، ان میں سے یہ دو فتنے ہیں: ایک غلو کا فتنہ، اور دوسرا ناصبیوں کا فتنہ۔ اور یہ دونوں فتنے دین کے ساتھ ساتھ امت کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔
اور جیسا کہ میں نے کہا تھا، امیر المومنین نے اس فتنے کے بارے میں حساسیت کا مظاہرہ کیا، باوجود اس کے کہ یہ فتنہ ان کے فائدے میں تھا۔ جتنا زیادہ غلو ہو، اگر آپ دنیاوی نقطہ نظر سے دیکھیں، تو جس کے پیروکار انتہا پسند اور مبالغہ آرائی کرنے والے ہوں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ جو پیر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، ان سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس سے لیڈر کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن امیر المومنین وہ منفرد رہنما ہیں جو اپنے بارے میں مبالغہ آرائی کرنے والوں کی سرزنش کرتے ہیں، اور انہیں فتنہ قرار دیتے ہیں، اور ان کی تباہی کی خبر دیتے ہیں۔
اسی طرح ائمہ طاہرین علیہم السلام نے اپنے اپنے دور میں مبالغہ آرائی کرنے والوں اور اپنے زمانے کے ناصبیوں کو فتنہ قرار دیا، ان کی نشان دہی کی اور لوگوں کو ان کے فتنوں اور برائیوں سے آگاہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ کے زمانے میں یہ دو فتنے بہت سخت فتنے تھے۔ لیکن ائمہ نے ناصبیت سے زیادہ غلو کے فتنے پر سختی کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کو اس سے محفوظ رہنے کے لیے زیادہ متنبہ کیا۔ کیونکہ اس فتنے کے ذریعے شیعیت تباہ ہو رہی تھی۔ اور یہ فتنہ اماموں کے دور کے بعد آج تک جاری ہے۔ بلکہ آج ناصبیت کا فتنہ بھی زیادہ شدید ہو چکا ہے اور یہ ساری دنیا میں ہے لیکن پاکستان اس کا گہوارہ ہے۔
واقعہ ترالی کی عالمی سطح پر مذمت قابل تحسین
اس وقت یہ فتنے اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ آج جمعہ ہے اور ملک بھر میں شیعہ برادری اور شیعہ رہنماؤں نے یوم احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والی دھشتگردی اور درجنوں افراد کی جانوں کے ضیاع کے خلاف خود اسلام آباد میں مرکزی احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ جتنا تکلیف دہ تھا، اتنا ہی افسوسناک واقعہ تھا، میرے محدود علم میں یہ پہلا واقعہ ہے جس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔ تمام عالمی لیڈروں یعنی یورپین لیڈروں، افریقی اور ایشیائی لیڈروں اور یہاں تک کہ بڑی بڑی حکومتیں جو اکثر بڑے فتنوں اور بڑے واقعات پر خاموش رہتی ہیں، سب نے متفقہ طور پر اس واقعہ کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری، تمام یورپی ممالک انفرادی طور پر، تمام خلیجی ممالک اور پاکستان کے اندر، گروہوں، تنظیموں اور شخصیات نے اس کی مذمت کی۔ کچھ خاموش رہے، لیکن زیادہ تر نے اس کی مذمت کی۔ اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے کہ وہ غزہ پر خاموش رہے، جب ایران پر حملہ ہوا تو وہ خاموش رہے، لیکن ترلائی کے حملے پر سب نے متفقہ طور پر اس کی مذمت کی۔ اور یہ ایک بہت اہم پہلو ہے – اجتماعیت اور سماجیات کے لحاظ سے اور سیاست میں اس کی بہت اہمیت ہے – کہ اس قدر عمومی سطح پر سب نے اس کی مذمت کی۔
ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ہر ایک کے لیے خاص طور پر شیعہ امت کے لیے دردناک تھا، خاص طور پر شہداء، ان کے اہل خانہ اور زخمیوں کے لیے یہ انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ تھا۔ اللہ ان سب زخمیوں کو شفاء کاملہ عطا فرمائے، ان کے اہل خانہ اور سب کے لیے، یہ ایک دل کو تکلیف دینے والا واقعہ تھا۔
واقعہ ترالی کے پیچھے عوامل
یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ اور کون اس میں قصور وار ہیں؟ ترلائی واقعہ میں ایک فریق ناصبی اور تکفیری ہیں جنہوں نے یہ فعل انجام دیا۔ دوسرا فریق جس کی غفلت اور سستی کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا وہ حکومت ہے۔ اور تیسرا فریق غالیوں کا فرقہ ہے کیونکہ یہ وہی امام بارگاہ ہے جس میں برسوں پہلے وہ واقعہ پیش آیا تھا، جس میں اہلسنت کی مقدس ہستیوں کے بارے میں ایک مقرر اور شہدا کے خون کے سوداگر نے پیسوں کے عوض آگ بھڑکانے والی بات کہی، اور پھر اس وقت کی حکومت نے اسے محفوظ طریقے سے انگلستان بھیج دیا۔ اور اس کے بعد تکفیریوں نے اسے ایک دستاویز بنا دیا- باوجود اس کے کہ اس واقعہ پر شیعہ کی طرف سے شدید ترین ردعمل ظاہر کیا گیا۔ ایف آئی آر شیعہ نے درج کروائی، احتجاج شیعہ نے کیا، کیونکہ شیعہ جانتے تھے کہ یہ فتنہ ہے۔ یہ بظاہر دو گروہ درحقیقت ایک گروہ ہیں: ناصبی تکفیری اور غالی، فرقہ پرست، فرقہ وارانہ ذاکر اور خطیب۔ وہ اندر سے ایک گروہ ہیں لیکن جب وہ آگے آتے ہیں تو دو ہو جاتے ہیں، کیونکہ دونوں ایک کام کر رہے ہیں، اور دونوں کا ہدف ایک ہے: امت کے اندر اشتعال پھیلانا، تفرقہ پیدا کرنا، اور پھر اس طرح کے واقعات کے لیے میدان تیار کرنا، اور پھر نئے کھلاڑی میدان میں آتے ہیں، مثلاً پہلے کوئی جا کر توہین آمیز بات کہتا ہے، پھر دوسرا آتا ہے، اس ماحول سے فائدہ اٹھاتا ہے اور تیسرا خودکش حملہ آور تیار کرتا ہے، پھر چوتھا اس خودکش حملے کے بعد کے حالات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان کے درمیان ایک زنجیر ہے، اور ان کے پیچھے جو محرک ہے وہ ایک ہے—جیسے فلم ڈائریکٹر جو ہدایت دیتا ہے۔ سامنے بیس تیس اداکار اور اداکارائیں اداکاری کر رہی ہیں لیکن پیچھے ایک ڈائریکٹر بیٹھا ہے۔
سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے: ایک ڈائریکٹر پیچھے بیٹھتا ہے۔ اس نے کہانی کے مختلف کردار بنائے ہیں اور ہر ایک کی رہنمائی کی ہے۔ ایک سے کہتا ہے: تمہیں آکر یہ تقریر کرنی ہے۔ تقریر کے بعد آپ کی اداکاری ختم ہو گئی ہے۔ پھر دوسرا کردار لایا جاتا ہے: جو تقریر ہو چکی ہے، اب اس پر تم اشتعال انگیزی کرو۔ وہ اشتعال انگیزی کرتا ہے، اس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ آپ کو ریلی نکالنی چاہیے، آپ کو "شیعہ کافر” کے نعرے لگانا چاہیے، آپ اشتعال انگیزی ضرور کریں، آپ تمام شیعوں کو واجب القتل قرار دیں۔ یہ کہہ کر وہ پیسے لیتا ہے، اس کا کردار ختم ہو جاتا ہے، وہ گھر چلا جاتا ہے۔ پھر تیسرا آتا ہے: اب آپ کو ایک خودکش بمبار تیار کرنا ہوگا، کیونکہ ماحول بن چکا ہے، اشتعال انگیزی کی گئی ہے، شعلے بھڑک رہے ہیں، نفرت پھیل چکی ہے، اب اپنے خودکش بمبار کو لائیں اور ایکشن فلم کا اہم سین پرفارم کریں۔ وہ آتا ہے۔ اس کے بعد حکومت آتی ہے اور پھر حکومت اسے روکتی ہے، اگر اس فتنے کی بنیاد پر معاملہ کو مزید بھڑکانا چاہے تو حکومت ایسے اقدامات کرتی ہے۔ اور اگر معاملے کو دبانا اور سمت کچھ اور دینا چاہتی ہے تو حکومت اور میڈیا آپس میں آ جاتے ہیں۔ اور اس طرح، اگلے واقعے تک، یہ فلم جاری رہتی ہے، اور اس پر معاملات چلتے رہتے ہیں۔
یہاں بھی وہی کام ہوا: سب نے مل کر یہ ماحول بنایا، اور بہت سی معصوم جانوں کا ضیاع ہوا جن میں زیادہ تر طالب علم تھے، سجدے کی حالت میں شہید ہوئے، حالت نماز میں شہید ہوئے، محراب میں شہید ہوئے۔ انہیں ایسے ہی بے دردی سے شہید کیا گیا۔
اور فوراً حکومت نے ایک کہانی چلائی کہ دو سے ڈھائی گھنٹے میں سب پکڑے گئے۔ اس کا شناختی کارڈ مل گیا۔ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے تھے۔ اس کے باوجود خودکش حملہ آور کا شناختی کارڈ برقرار تھا، اسے کچھ نہیں ہوا۔ اور یہ بالکل "نائن الیون” کی طرح ہوا: ہزاروں ڈگری فارن ہائیٹ پر ہر چیز پگھل کر پاؤڈر بن گئی، پھر بھی پاسپورٹ پر کوئی اثر نہیں ہوا — یہ معجزہ ہوا۔ اور فوراً آٹھ گھنٹے کے اندر افغانستان میں چھپے ذمہ داروں کو ڈھونڈ نکالا۔ اور ڈھائی گھنٹے میں ہماری ایجنسیوں کو چاہیے کہ وہ سی آئی اے کو مزید ٹریننگ دیں تاکہ وہ دورانیہ کم کریں۔ ڈھائی گھنٹے میں خودکش حملہ آور کا شناختی کارڈ ڈھونڈ لیا۔ پھر اس کی پوری کہانی تیار کی گئی کہ وہ جیکٹ پہن کر نوشہرہ سے بس میں بٹھا، راستے میں چائے پی اور چائے پینے کے بعد سیدھا مسجد میں آیا اور دھماکہ کر دیا۔ جس ملک میں کوئی دہشت گرد گھر سے جیکٹ پہن کر اسلام آباد کے سیکیورٹی زون میں گھس کر بم دھماکہ کر سکتا ہو، تو اس کہانی میں یہ سوچنا چاہیے تھا کہ تمہاری کیا عزت رہ گئی؟ اس میں ڈائریکٹر کی کیا عزت رہ گئی؟ اگر کوئی آدمی عام بس میں بیٹھ کر دہشت گردی کر سکتا ہے تو یہ کیسی سکیورٹی ہے؟ کہاں گیے آپ کے سی سی ٹی وی کیمرے اور آپ کے دعوے؟ اور پھر اس کے بعد حکومت نے جو کردار ادا کیا وہ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔
یہ اتنا ہی شرمناک ظلم ہے جتنا کہ تکفیریوں نے کیا۔ یہ جرم پہلی بار بھی نہیں ہوا اور یہ آخری بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مبالغہ آرائی کرنے والوں کا بھی ہاتھ تھا، تکفیریوں کا بھی، اور ناصبیوں کا بھی، سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔
حکومت کا کردار اور اس کی حماقت
یہ ہے حکومت کا کردار اور اس کی حماقت۔ آپ نے تکفیریوں کو موقع دیا۔ آپ ایک طرف کہتے ہیں کہ خوارج پاکستان کو تباہ کر رہے ہیں، یہ خوارج اگر افغان سرحد سے آئے ہیں تو وہ خوارج ہیں۔ لیکن اگر لال مسجد میں کوئی خارجی بیٹھا ہے تو کیا وہ خارجی نہیں ہے؟ اتفاق سے لال مسجد والوں کا تعلق دیوبند لائن سے ہے، اور تصدیق شدہ دیوبندی مفتیوں نے کہا ہے کہ لال مسجد کے یہ مولوی بھی خوارج ہیں۔ ایک حکومتی مفتی نے کہا کہ یہ خوارج ہیں۔
آپ نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ خوارج کون ہیں: علی علیہ السلام کو شہید کرنے والے۔ خارجی کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ علی اور علی کے پیروکاروں کا دشمن ہے۔ وہ انہیں کافر قرار دیتا ہے۔ ان خوارج نے شیعوں کو اپنے نشانے پر رکھا ہے۔ اور پھر جب یہ مظلوم خاندان، جن کے اتنے لوگ شہید ہو چکے ہیں، احتجاج کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں رونے کا حق بھی نہیں دیا جاتا، نہ احتجاج کا حق، نہ مذمت کا حق، کہیں جمع ہونے کی انہیں اجازت نہیں تھی۔
جمہوری ملک میں احتجاج کی اجازت کیوں نہیں؟
اب آپ خود کہتے ہیں کہ یہ جمہوری ملک ہے۔ اس میں احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ پھر شیعہ اس حق سے کیوں محروم ہیں؟ اسلام آباد میں تکفیریوں کو کفر پھیلانے، تکفیر کا اعلان کرنے، شیعہ کو واجب القتل قرار دینے کی اجازت ہے اور شیعہ کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے مظلوم، اپنے شہید کے لیے، آنسو بہانے، اپنے زخمیوں کے حقوق، اپنی برادری کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔
یہ کیسی حکومت ہے؟ آپ اس ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ سے شیعہ دب جائیں گے؟ کیا مجسٹریٹ کے انتباہ سے شیعہ دب جائیں گے؟ اگر اسے دبانا تھا تو ضیاء الحق نے اس سے بھی بڑا ظلم کیا۔ اسے دبانا چاہیے تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ساٹھ ہزار شیعہ شہید ہوچکے ہیں یعنی ترلائی کے واقعے سے پہلے ساٹھ ہزار اور یہ قتل عام جاری ہے۔
اہلسنت کے ایک بزرگ عالم جو کہ اتحاد کے حامی ہیں، نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے کہ سنی کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو آنکھیں کھولنی چاہئیں: آپ نے شیعوں کو بار بار مارنے کی کوشش کی، پھر بھی شیعہ ختم نہیں ہوئے۔ تو جو کچھ نہیں ہو سکتا اس پر اپنی توانائی کیوں ضائع کریں؟ اور اسی طرح شیعوں نے انتقامی کارروائیاں کیں اور دیکھا کہ وہ سنیوں کو قتل نہیں کر سکتے۔ اس لیے اس کام کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
جو بھی یہ اشتعال انگیزی کا کام کرتا ہے، جیسا کہ ان فتنہ پھیلانے والے غالیوں نے کیا تھا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا تھا: یہ تباہ و برباد کرنے والے ہیں۔ وہ آگ جلاتے ہیں۔ اور تم امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان میں آگ بجھاؤ۔ آپ انگلستان میں بیٹھ کر پاکستان میں آگ جلاتے ہیں۔ اپنے ملک میں رہو۔ اگر تم بہادر ہو تو اپنے ملک میں بیٹھ کر یہ کام کرو۔ پھر اس کی سزا بھگتنا ہے۔ اس کا جواب واضح ہے: جب آپ اشتعال انگیزی کرتے ہیں تو اپنے دین کو آزادانہ طور پر بیان کریں۔ شیعہ مذہب کا فرق ایک حق ہے۔
یہ ہر شہری کا حق ہے۔ ہر سنی کو اپنا فرقہ بیان کرنے کا حق ہے۔ پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ میں نے پہلے عندیہ دیا تھا کہ میں کسی وجہ سے آئین پاکستان کو غور سے پڑھنا چاہتا تھا لیکن مصروفیت کی وجہ سے موقع نہیں ملا۔ پھر درمیان میں سپریم کورٹ نے ہم سے کچھ پوچھا تو مجھے پڑھنا پڑا۔ پاکستان کے آئین کا مطالعہ کرنا بہت اچھا ہو گیا، اور وہ یہ ہے کہ: پاکستان کے آئین میں دی گئی آزادی، شہری آزادی، مذہبی آزادی، اور مذہبی آزادی- پاکستانی شیعوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ آئین انہیں کتنی آزادی دیتا ہے۔ اور آئین اس شخص کو مجرم قرار دیتا ہے جو کسی پر مذہبی عمل، مذہبی عقیدہ، مذہبی عبادت، مذہبی اظہار میں کسی بھی قسم کی مذہبی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ وہ حکومت مجرم ہے، وہ پولیس مجرم ہے، وہ جج مجرم ہے جو کسی بھی پاکستانی شہری کی آزادی میں رکاوٹ ہے۔
آپ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے – شیعہ، سنی – ہر ایک کو اپنے مذہبی اختلاف کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ لیکن آپ کو توہین کا حق نہیں ہے۔ آپ کو بے عزتی کرنے کا حق نہیں ہے۔ آپ کو مقدس چیزوں کو پامال کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ جرم ہے۔ قرآن نے سب سے پہلے اس جرم کا اعلان کیا۔ پاکستان کے آئین نے بعد میں اس کا اعلان کیا۔ قرآن نے اس کو جرم قرار دیا کہ تم دوسروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی نہ دو۔ قرآن تمہیں روکتا ہے۔ آپ کی دلیل یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے پھر بھی آپ اس کو گالی دیتے ہو۔ لہٰذا مذہبی منافرت اور دشمنی جرم ہے۔
شیعت کو قتل سے مٹانا ناممکن
آپ شیعیت کی تاریخ نہیں جانتے: کربلا تک شیعہ ازم اتنا مضبوط نہیں تھا۔ کربلا سے مضبوط ہوا۔ جہاں آپ نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی، وہاں سے یہ مضبوط تر ہو گیا۔ کربلا تک شیعیت کمزور تھی۔ کربلا تک شیعہ کوفہ میں تھے اور کوفہ کے شیعہ بہت کمزور تھے۔ کربلا میں بھی ثابت ہوا لیکن جب آپ نے تلوار سے کربلا میں شیعوں کو مکمل طور پر مٹانے کی کوشش کی تو پھر دیکھا اس کے بعد کی تاریخ دیکھی آج تک شیعہ کس قدر عروج پر ہے۔
اور آج اگر آپ ٹرمپ کے ساتھ مل کر شیعیت کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ بات اپنے ذہن سے نکال دیں: ٹرمپ سے بہت بڑے یزید پہلے بھی شیعوں کو دبانے کے لیے آئے تھے۔ وہ خود فنا ہو گئے لیکن شیعیت کا شجر طیبہ ابھی تک قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا۔ شیعہ ایسی قوم نہیں ہیں کہ ان چیزوں سے دب جائیں۔
احتجاج شیعوں کا بنیادی حق ہے۔ البتہ فرقہ واریت جرم ہے، چاہے شیعہ کرے یا سنی کرے۔ تمام فرقے قابل احترام ہیں اور ہم تمام فرقوں کے ساتھ رواداری کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہماری مخالفت کرنے والوں کی مخالفت کرنا جرم نہیں ہے۔ اگر کچھ لوگ شیعوں کے نظریاتی مخالف ہیں تو یہ ٹھیک ہے۔ یہ ان کا حق ہے- اختلاف رکھیں، اپنے ثبوت پیش کریں۔ شیعوں کا ان سے نظریاتی اختلاف ہے۔ شیعہ اپنے مذہب کی ترویج کریں، اپنا مذہب پیش کریں۔ لیکن نہ تو سنی کو توہین کا حق ہے اور نہ شیعہ کو توہین کا حق ہے۔
اور اس بات کو ذہن میں رکھیں: اسے شیعہ سنی کے کھاتے میں نہ ڈالیں۔ یہ مبالغہ آرائی کرنے والے جو سٹیجوں پر بیٹھ کر اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلاتے ہیں یہ شیعہ نہیں ہیں۔ شیعہ رہبر انقلاب امام خامنہ ای نے فرمایا: یہ برطانوی شیعہ ہیں؛ یہ امامیہ شیعہ نہیں ہیں۔ یہ علی کے شیعہ نہیں ہیں۔ یہ برطانیہ کے شیعہ ہیں۔ اور اس طرح ان کے اعمال کو شیعوں کے کھاتے میں درج نہ کیا جائے اور مبالغہ آرائی کرنے والوں کے اعمال کو شیعوں کے کھاتے میں درج نہ کیا جائے۔ شیعوں کا وقار، ثقافت اور تاریخ ہے اور آج بھی وہ اسی ثقافت کے مالک ہیں۔
