رمضان اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نظام ہے۔ اس کا ایک جز صوم ہے۔ صوم اور رمضان برابر نہیں ہیں۔ وہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ رمضان المبارک ایک وسیع انتظام ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لیے ترتیب دیا ہے، جو ہدایت کا ایک پیکج ہے۔ اس کے اندر ایک جز صوم ہے اور صوم کا مقصد تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔
بعثت انبیاء کا مقصد؛ اختلاف کی برطرفی اور امت کی تشکیل
انسانی زندگی کا مرکزی اور بنیادی دھارا اس کی اجتماعی زندگی ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ انسان ہرچند اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل پیرا نہ بھی ہو تب بھی وہ اجتماعی زندگی خودبخود اختیار کر لیتا ہے۔ یہ بحث قدیم زمانے سے علماء میں رہی ہے کہ آیا اجتماعیت انسان کی فطرت میں ہے یا بیرونی عوامل کے دباؤ میں انسان اجتماعیت اختیار کرتا ہے؟ نتیجہ میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں صورتوں میں انسان کی زندگی اجتماعی ہی ہو گی۔
اجتماعیت سے کیا مراد ہے؟
اجتماعیت سے مراد صرف اکٹھے رہنا نہیں ہے بلکہ ایک سماج، معاشرہ اور سوسائٹی تشکیل دے کر باہمی روابط قائم کرنا اور ان روابط کے سائے میں زندگی بسر کرنا ہے۔ انسانی سماج ایک جسم کے مانند ہے اور اس کی ترکیب بھی ویسی ہی ہے جیسی انسان کے جسم کی ترکیب ہے۔
اجتماعیت حیات، ہدایت اور حفاظت کی بنیاد
اس اجتماعیت کو حیات، ہدایت اور حفاظت کے لیے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ یعنی جب حیات کی تشکیل کا مرحلہ ہو گا تو اجتماعی حیات بنیادی حیثیت رکھے گی۔ اور جب دین کا نزول ہو گا اور الہی ہدایت آئی گی تو وہ بھی اجتماع اور معاشرے کے لیے آئے گی۔ اسی طرح حفاظت بھی اسی اجتماعیت کے ذریعے ممکن ہو گی یعنی اگر سماج محفوظ ہو گا تو اس کے اندر فرد بھی محفوظ رہے گا۔ اس کو بھی اللہ نے تقویٰ کا نام دیا ہے یہ تقویٰ امت کا تقویٰ ہے۔ سورہ مبارکہ مومنون کی آیت 51 اور 52 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمࣱ51
اے میرے رسولو ! تم پاکیزہ غذائیں کھاؤ اور نیک کام کرو کہ میں تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہوں
وَإِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱتَّقُونِ52
اور تمہاری یہ امت یقینا امت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہٰذا میرا تقویٰ اختیار کرو۔
فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرࣰاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ53
مگر لوگوں نے اپنے (دینی) معاملات میں تفرقہ ڈال کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اب ہر فرقہ اپنے پاس موجود (نظریات) پر خوش ہے۔
فَذَرۡهُمۡ فِي غَمۡرَتِهِمۡ حَتَّىٰ حِينٍ54
اب آپ انہیں ایک مدتّ کے لئے اسی گمراہی میں چھوڑ دیں۔
تشکیل امت کے بعد تقویٰ کا مرحلہ
قرآن کریم میں امت کے تقویٰ کی حیثیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہ اس وقت ہے جب امت قائم ہو جائے۔ جب امت تشکیل پا جائے تو پھر امت کی حفاظت کا مرحلہ آتا ہے لیکن سب سے پہلا مرحلہ امت کی تشکیل ہے۔
اس سورہ مومنون میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ پہلے یہ لوگ ایک ہی امت تھے لیکن پھر بعد میں انہیں تقسیم کر کے گروہ گروہ کر دیا گیا اس طرح امت واحدہ کی تقسیم کا عمل وجود پایا۔
سورہ بقرہ کی آیت 213 میں اللہ نے انسانوں کی اجتماعیت اور اساس کو ذکر کیا ہے:
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطࣲ مُّسۡتَقِيمٍ۔
’’( فطری اعتبار سے) سارے انسان ایک قوم تھے . پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کریں اور اصل اختلاف ان ہی لوگوں نے کیا جنہیں کتاب مل گئی ہے اور ان پر آیات واضح ہوگئیں صرف بغاوت اور تعدی کی بنا پر—– تو خدا نے ایمان والوں کو ہدایت دے دی اور انہوں نے اختلافات میں حکم الٰہی سے حق دریافت کرلیا اور وہ تو جس کو چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے‘‘۔
یہ آیت اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ لوگ پہلے ایک امت تھے۔ امت کے معنی بیان کیے کہ امت لفظ ’ام‘ سے نکلا ہے اور ’ام‘ اس مرکزی بنیاد کو کہتے ہیں جس کی طرف تمام چیزیں پلٹتی اور اس کے گرد جمع ہوتی ہیں۔ اور امت اس جمعیت کو کہتے ہیں جو ایک مقصد، ایک راستے یا ایک دین و آئیڈیالوجی پر اکٹھے ہو جائیں۔ اور امام اس جمعیت کا وہ پیشوا ہوتا ہے جس کے گرد یہ جمعیت اکٹھی ہوتی ہے اور وہ اس جمعیت کے اتحاد کو برقرار رکھتا ہے۔
امت واحدہ اور ارسال رسل
قرآن کا فرمانا ہے کہ لوگ امت واحدہ تھے ایک مرکز کے گرد جمع تھے۔ اس آیت میں یہاں پر ایک مرحلہ ذکر نہیں ہوا چونکہ وہ بغیر ذکر کئے بھی واضح ہے کہ لوگ آپس میں اکٹھے تھے اللہ نے انبیاء کو منذرین اور مبشرین بنا کر مبعوث کیا تاکہ وہ ان امور میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کی امت واحدہ کو قائم رکھیں۔ چونکہ لوگ پہلے امت تھے ان کے درمیان اختلاف ہوا پھر اللہ نے انبیاء کو بھیجا کہ وہ ان اختلافات کو دور کریں۔
یہی بات سورہ یونس میں زیادہ کھول کر بیان کر دی گئی ہے۔
سورہ یونس کی آیت 19 میں ارشاد ہے:
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ فَٱخۡتَلَفُواْۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةࣱ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ فِيمَا فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ۔
’’اور سب انسان ایک ہی امت تھے پھر اختلاف رونما ہوا اور اگر آپ کا پروردگار پہلے طے نہ کر چکا ہوتا تو ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دیا جاتا جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘
سورہ بقرہ کی آیت میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے لیکن وہاں پر لوگوں کے امت واحدہ ہونے اور انبیاء کے مبعوث ہونے کے درمیان جو اختلاف کا مرحلہ تھا اس کو بیان نہیں کیا لیکن بعد میں انبیاء کی بعثت کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے ضمن میں بیان کر دیا تھا کہ انبیاء اس لیے آئے تھے چونکہ امت میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔
لیکن سورہ یونس میں واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ لوگ امت واحدہ تھے لیکن ان میں اختلاف ہو گیا۔ پھر فرمایا اگر اللہ کا فرمان نہ ہوتا تو ان کے درمیان ان امور میں فیصلہ بھی کر دیا جاتا جن میں انہوں نے اختلاف کیا ہے۔ لیکن قضائے خدا ایسی نہیں ہے کہ جونہی اختلاف ہو فورا فیصلہ بھی کر دیا جائے۔ کسی جرم کی فورا سزا دینا یہ اللہ کی سنت نہیں ہے قانون خدا یہ ہے کہ جو امت کے درمیان اختلاف ڈالیں گے ان کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
بعثت انبیاء کا مقصد؛ اختلاف امت کی برطرفی اور تشکیل امت
یہ دونوں آیات یعنی سورہ بقرہ کی 213 اور سورہ یونس کی 19 اس حقیقت کو بیان کر رہی ہیں کہ لوگ ایک امت تھے پھر ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اللہ نے اختلاف کو دور کرنے کے لیے ان کے درمیان انبیاء کو مبعوث فرمایا کہ جن امور میں ان کے درمیان اختلاف ہوا ہے اس اختلاف کو دور کرے انہیں دوبارہ ایک امت کی صورت میں جمع کریں۔
اس آیت کی رو سے انبیاء کی بعثت کا مقصد تشکیل امت ہے۔ بعض علماء نے اس کو تاریخی لحاظ سے بھی بیان کیا ہے کہ جب سے انسان نے روئے زمین پر قدم رکھا ان کے لیے ہدایت تھی لیکن باقاعدہ نظام شریعت کی صورت میں حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوا۔ یعنی پہلی شریعت جناب نوح پر نازل ہوئی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سے پہلے والے لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی آئین نہیں تھا۔
بہرحال انبیاء کو واضح دلائل اور کتب کے ساتھ لوگوں کے درمیان اس لیے بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں میں پائے جانے والے اختلاف کو دور کریں لیکن اس درمیان لوگوں میں سے ایک طبقہ ایسا سامنے آیا جسے قرآن نے باغی کہا جس نے انبیاء کے ذریعے نازل کی گئی کتابوں اور ان کی تعلیمات میں بھی اختلاف پیدا کر دیا۔
تشکیل امت میں انبیاء کا کردار
قرآن کریم میں اللہ نے ہدایت کی زبان استعمال کی ہے یعنی قرآن کا اسلوب نہ علمی ہے نہ استدلالی ہے بلکہ ہدایت کا اسلوب ہے۔ ہدایت کا اسلوب علمی اسلوب سے بالکل الگ ہے۔ ہم علوم کے ذریعے تدوین شدہ قواعد کے ذریعے چونکہ قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے ہمیں دشواری ہوتی ہے۔ اگر منطق قرآن سے ہم قرآن کو سمجھیں اور اس آیت کے ایک ایک جملے کا تجزیہ کریں تو ہمیں سمجھ میں آئے گا کہ تشکیل امت میں انبیاء کا کیا کردار تھا۔
’’كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ ‘‘ یہ ایک جملہ ہے کہ ’’لوگ امت واحدہ تھے‘‘ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ: ’’اللہ نے انبیاء مبعوث فرمائے مبشر اور منذر کے طور پر‘‘، یعنی لوگ امت واحدہ تھے پس اللہ نے نبیوں کو مبعوث فرمایا۔ یہاں پر مقتضی کیا تھا اللہ نے نبیوں کو کیوں مبعوث فرمایا؟ کیا چیز ضرورت بنی کہ اللہ نبیوں کو مبعوث کرے؟ اس آیت کریمہ میں ظاہری الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ وحدت امت کا تقاضا تھا کہ اللہ نے نبی مبعوث فرمائے۔ لیکن سورہ یونس کی آیت یہاں ان دو جملوں کے درمیان ایک پوشیدہ چیز کو ظاہر کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ لوگ امت واحدہ تھے لیکن ان میں اختلاف پیدا ہوا ’’فَٱخۡتَلَفُواْۚ‘‘ اب جملوں کی ترتیب یوں بنے گی کہ لوگ امت واحدہ تھے پس ان میں اختلاف پیدا ہوا تو اللہ نے اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے نبیوں کو مبعوث کیا۔ لیکن انبیاء کی ذمہداریاں یہ تھیں کہ وہ مبشر اور منذر تھے۔
مبشر کا دقیق ترجمہ
عام طور پر مبشرین اور منذرین کا ترجمہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دقیق ترجمہ نہیں ہے۔ مبشر کہتے ہیں جو مایوس، مرجھائے ہوئے اور افسردہ انسان کو ایسا راستہ دکھائے جس سے اس کی مایوسی اور افسردگی دور ہو جائے اور اس کے چہرے پر خوشی اور رونق آ جائے۔ ناامید انسان کو جب امید پیدا ہوتی ہے تو اس کے چہرے پر خوشی کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ بِشر انسان کی کھال اور چمڑی کو کہتے ہیں انسان کو بَشر اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس کی چمڑی نمایاں ہوتی ہے اور بشارت انسان کے چہرے پر خوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والے آثار کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یعنی ایک مایوس، ناامید اور مشکل میں گرفتار انسان کے چہرے کی چمڑی سکڑی ہوئی اور منہ لٹکا ہوا ہوتا ہے لیکن جب اس کو خبر دی جائے کہ اس کی مشکل حل ہو گئی ہے تو اس کی چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ لیکن جانوروں میں ایسا نہیں ہوتا ان کی خوشی و غمی کے آثار چہرے پر نمایاں نہیں ہوتے۔
انبیاء کی بشارت سے مراد
وہ انسان جو مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہے انبیاء اسے امید کے راستے بتاتے ہیں تو انسان کے اندر امید کی کرن پیدا ہوتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ جس کو بشارت کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم نے بشارت کو جنت کی حوروں اور دودھ کی نہروں میں منحصر کر دیا ہے۔ بشارت اصل میں اسی دنیا میں امید اور کامیابی کے راستوں کی نشاندہی اور ان راستوں میں پائے جانے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے طریقہ کار کو کہتے ہیں۔
ایک انسان روزگار کی تلاش میں ہے اور آپ اس کو کہو کہ تم جب مرو گے تو جنت میں دودھ کی نہر کے پاس تمہارا محل ہو گا اور اس میں حوریں تمہارا انتظار کر رہی ہوں گے۔ یہ بشارتیں دے کر آپ اس کا چہرہ دیکھو کہ اس کے چہرے پر کیا آثار رونما ہوتے ہیں۔ وہ اور زیادہ مایوس ہو گا کہ میرے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، کمانے کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہے آپ مجھے موت کے بعد کی خبریں دے رہے ہیں۔ لیکن اگر اس کے پاس روزگار نہیں ہے اور آپ اس سے کہو کہ کل تم میرے دفتر آ جاؤ میں تمہارے لیے روزگار کا انتظام کرتا ہوں۔ یہ بات کہنے کے بعد پھر آپ اس کا چہرہ دیکھنا کہ اس کے چہرے پر کیا اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ دونوں چیزیں آپ تجربہ کر کے دیکھنا، ایک بےروزگار کو حوروں کا وعدہ بھی دے کر دیکھنا اور نوکری کا وعدہ بھی، جس وعدے سے اس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوں گے وہ بشارت ہو گی۔
جب انسان زمین پر زندگی گزار رہا ہے اور زمینی مشکلات میں گرفتار ہے تو اسے زمینی بشارتیں چاہیے تاکہ وہ یہاں کی مشکلات حل کر سکے۔ انبیاء کرام زمین کی مشکلات دور کرنے کے لیے آئے۔
ابشار و انذار تبلیغ انبیاء کے دو اسلوب
لوگ امت واحدہ تھے پھر ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو انبیاء مبشر اور منذر بن کر ان کے درمیان آئے۔ جب امت تقسیم اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو اسے مبشر اور منذر کی ضرورت ہے جو اسے امید کے راستے بتائے، اختلاف سے نکلنے کا طریقہ بتائے اور انہیں دوبارہ وحدت کی لڑی میں پروئے۔ وہ مبشر ہو گا۔ نہ کہ زمین پر اختلاف باقی رہے، زمین پر ظلم و ستم، حق تلفی اور ناانصافی باقی رہے اور لوگوں کو آپ جنت کی حوروں کے وعدے دیتے رہو یا اختلاف مزید بڑھاتے چلو، امت کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرتے جاؤ، انہیں مزید مشکلات کا شکار بناتے جاؤ، نفرتیں اور دشمنیاں مزید پیدا کرتے جاؤ اور ساتھ ساتھ حور و غلمان کے وعدے دیتے جاؤ۔ یہ مبشر نہیں ہے جو تفرقے میں جنت دکھائے۔ مبشر وہ ہے جو تفرقے ختم کرے اور امت میں وحدت برقرار کرے۔ انسانیت کی بنیادی ضرورت وحدت ہے۔ تمام دنیوی اور اخروی نتائج اسی وحدت امت کے ساتھ گرہ خوردہ ہیں۔ وحدت امت کو ختم کر کے کوئی دنیوی و اخروی نتیجہ نہیں لے سکتا۔ اس لیے انبیاء آئے تاکہ اس اختلاف اور تفرقے کو ختم کریں۔ کس طریقے سے کریں؟ ابشار و انذار کے ذریعے۔ یہ تبلیغ کے دو اسلوب ہیں۔
انذار کا دقیق مطلب
انذار خطرات سے آگاہ کرنے کو کہتے ہیں؛ تفرقے، اختلاف اور فرقہ واریت کے خطرات سے آگاہ کرنا انذار ہے۔ عربی میں منذرین فوج کی اس ٹولی کو کہتے ہیں جو میدان جنگ میں اونچی مچان بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے لشکر کو دشمن کی نقل و حرکت سے باخبر رکھتے ہیں۔
ڈرانے والے کو منذر نہیں کہتے بلکہ آگاہی دینے والے کو کہتے ہیں۔ جس قوم کو خطرات نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہو تو جو شخص خطرے بھانپ لے اور بروقت خطرات بھانپ کر قوم کو ان سے آگاہ کر دے، اور خطرات سے بچنے کے لیے انہیں حفاظتی طریقے بھی بتائے اور انہیں خطرات سے نمٹنے کے لیے آمادہ بھی کر دے اس کو قرآن کی زبان میں منذر کہتے ہیں۔
بشارت صرف اخروی وعدے کا نام یا دنیوی؟
اختلاف کا شکار قوم کو مبشر و منذر کی ضرورت ہے اختلاف اور تفرقے کے خطرات سے آگاہ کرنا انذار اور اختلاف کو دور کر کے انہیں وحدت کی لڑی میں پرونا ابشار ہے۔ یہاں مشکل حوروں کی نہیں ہے کہ اس اختلاف اور تفرقے کی دلدل میں پھنسی قوم کو آپ حوریں دکھا کر ان کی مشکل آسان کر دو گے۔ ایک جوان کو اس دنیا میں شادی کی ضرورت ہے تو آپ اسے جنت کی حور سے خوش نہیں کر سکتے۔ اسے اسی دنیا میں حور چاہیے لہذا اسے شادی کی خبر دینا اس کے لیے بشارت ہے۔ لیکن بےروزگار آدمی کو بھی اگر آپ شادی کا وعدہ دو، جو بیمار ہے اس کو بھی شادی کا وعدہ دو کہ آپ بیمار ہو تسلی رکھو عنقریب آپ کی شادی ہو جائے گی اس سے وہ خوش نہیں ہو گا۔ بےروزگار کو روزگار دے کر خوش کر سکتے ہو اور بیمار کو دوا دے کر۔ جس کی جس طرح کی مشکل ہے اسی طرح کا راہ حل اس کے لیے بشارت ثابت ہو گا۔
آج کی دنیا میں بشارت
انبیاء کرام نہ صرف اخروی بشارتوں بلکہ دنیوی بشارتوں کے لیے آئے ہیں۔ آج کی دنیا میں بشارتیں کون لوگ دے رہے ہیں جو نئی ٹکنالوجی بنا کر لوگوں کی مشکلات حل کر رہے ہیں یہ ان کے لیے بشارتیں ہیں۔ تقریریں کرنے والے بشارتیں نہیں دیتے وہ صرف لوگوں کے ذہنوں کو مزید الجھاتے ہیں۔ وہ کسی چیز کا راہ حل نہیں دیتے۔ ابشار راہ حل دینے کو کہتے ہیں۔ راہ حل بھی انہیں مشکلات کا چاہیے جو ابھی لوگوں کو درپیش ہیں۔
امت کے اختلاف میں باغیوں کا کردار
بہرحال، لوگ امت واحدہ تھے پھر اختلاف کا شکار ہوئے اللہ نے ان کے اختلاف کو دور کرنے کے لیے انبیاء کو بطور مبشر و منذر ان کے پاس بھیجا۔
وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ اور ان کے ساتھ منشور بھی بھیجا۔ یعنی ارسال رسل کا مقصد وحدت امت، ابشار اور انذار کا مقصد وحدت امت اور نزول کتب کا مقصد بھی وحدت امت۔ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ ان کے ساتھ کتاب نازل کی تاکہ کتاب کے مطابق وہ لوگوں کے درمیان اختلافی امور میں فیصلہ کریں۔
وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ لیکن انبیاء کے کام میں رخنہ ڈالنے والے باغی پیدا ہو گئے جنہوں نے اس کتاب میں ہی اختلاف پیدا کر دیا جو کتاب امت کا اختلاف ختم کرنے کے لیے نازل کی گئی تھی۔ یہ باغیوں کا کام تھا جو اللہ، رسول، کتاب اور انسانیت کے باغی تھے۔
اس آیت پر اگلے خطبے میں مزید گفتگو کریں گے۔ اس آیت کے مطابق تشکیل امت پہلا مرحلہ ہے جو انبیاء کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ ہمیں اس ماہ نزول قرآن میں ہمیں قرآن کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خطبہ دوم
تقویٰ انسانی زندگی کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ایک حفاظتی اقدام ہے جو انسان کے دنیاوی اور اخروی خطرات اور آفات سے بچنے کے لیے ڈھال ہے۔ تقویٰ کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف انتظامات کیے ہیں ان میں سے ایک ماہ رمضان ہے۔
روزہ صوم کا درست ترجمہ نہیں
یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو ہر سال آتا ہے۔ اور ہر سال یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ مہینہ تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اور اس مہینے کے آداب میں خاص طور پر صوم ہے جس کا ہم روزہ ترجمہ کرتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی متعدد بار عرض کیا کہ ان علماء کا ہمارے اوپر بڑا احسان ہے جنہوں نے دین کی بعض اصطلاحات کو بنا ترجمہ کے چھوڑ دیا جیسے زکات، حج اور جہاد۔ اسی طرح اگر صوم و صلاۃ کو بھی چھوڑ دیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ چونکہ روزہ اور نماز جو ان کا ترجمہ کیا ہے وہ ان کا اصل معنی نہیں ہے۔
روزے کا اصل مطلب کیا ہے؟ روزہ "روز” سے متعلق ہے، جس کا مطلب ہے دن۔ روز سے روزی بھی نکلا ہے یعنی اگر روزانہ راشن موجود ہو تو روزی ہے۔ اگر روزانہ کا راشن موجود نہیں ہے تو روزہ ہے۔ روزے کا مطلب ہے کہ دن بھر کے لیے کوئی راشن اور کھانا نہیں۔ لیکن صوم یہ نہیں ہے۔ صوم کے لیے قرآن کریم نے جو حکمت بیان کی ہے وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے لیے قریب ترین اور مؤثر عمل صوم ہے اور صوم رمضان میں ہے۔
رمضان ہدایت کا پیکیج
رمضان اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نظام ہے۔ اس کا ایک جز صوم ہے۔ صوم اور رمضان برابر نہیں ہیں۔ وہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ رمضان المبارک ایک وسیع انتظام ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لیے ترتیب دیا ہے، جو ہدایت کا ایک پیکج ہے۔ اس کے اندر ایک جز صوم ہے اور صوم کا مقصد تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔
رمضان کا بابرکت مہینہ آپ کے لیے ایک ورکشاپ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سال میں ایک ورکشاپ رکھی ہے، جس طرح حج ایک ورکشاپ ہے۔ اگر چہ ہم اسے ورکشاپ نہیں سمجھتے۔ لیکن یہ واقعی ایک ورکشاپ ہے۔
رمضان ایک ورکشاپ
رمضان کا بابرکت مہینہ حقیقت میں ایک ورکشاپ ہے۔ لیکن ہم اسے ورکشاپ نہیں سمجھتے۔ ہم جس طرح حج کو ورکشاپ نہیں سمجھتے اسی طرح رمضان کو بھی ورکشاپ نہیں سمجھتے۔ ہم رسم پرست لوگ ہیں اور ہر معاملے کے لیے رسمیں بنانے میں ماہر ہیں۔ جو بھی موقع آتا ہے، ہم اسے رسومات میں گزار دیتے ہیں۔
رسم ایک ایسا عمل ہے جسے عقیدت مندوں نے عقیدت کے اظہار کے لیے اپنایا ہے۔ ایک عقیدت مند جہاں اس کی عقیدت ہوتی ہے وہ وہیں جاتا ہے۔ عقیدت ایک احساس ہے؛ یہ احساس سکون کی تلاش میں ہے۔ احساسات سکون تلاش کرتے ہیں؛ وہ دلیل نہیں ڈھونڈتے۔
ہم عام طور پر جذباتی لوگ ہیں؛ ہم رسومات سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، نہ تعلیمات و عبادات سے۔ تسکین رسموں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ہم رسم پرست لوگ ہیں۔ رسومات میں ہم بڑے مواقع ضائع کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم، ہم ہر سال رسومات کی وجہ سے بہت بڑا نقصان اٹھاتے ہیں یعنی ماہ رمضان کو جس طرح سے ہم اسے گزارتے ہیں، ہم مکمل خسارے میں چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرح ہمیں رمضان کا پروگرام دیا تھا- اس سال ہم سب یہ عزم کریں کہ رمضان المبارک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزاریں گے۔ ہم اسے ورکشاپ کے طور پر دیکھیں گے۔
یہ ایک ورکشاپ ہے، اور اس میں تیس دن یعنی تین دس دن کے حصے ہیں۔ ان تین حصوں میں، آپ کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ یہ پہلے ہی تقسیم شدہ ہے۔ پہلے دس دنوں کے لیے، ایک مضمون مقرر کریں؛ دوسرے دس دنوں کے لیے، ایک اور؛ تیسرے دس دن کے لیے، ایک اور۔
اس ورکشاپ میں تین کاموں کی پرکٹس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تین اہم باتیں بتائیں۔ خطبہ شعبانیہ میں تیس روزہ ورکشاپ کا مکمل پروگرام پیش کیا ہے۔ اس میں سے ہم تین باتوں کا انتخاب کرتے ہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہم سب کچھ نہ کر سکیں اور تھک جائیں۔
اول: صلہ رحم۔ رشتہ داریاں قائم رکھیں۔ اپنے رشتہ داروں کی فہرست بنائیں، جن سے آپ کے خون کے رشتے یا دوستی ہیں۔ تیس دنوں کے اندر تیس خاندانوں تک پہنچیں۔ جو آس پاس ہیں ان کے پاس جائیں؛ رمضان فرصت فراہم کرتا ہے۔ دن یا رات کے دوران جائیں۔ جو دور ہیں ان سے فون پر رابطہ کریں۔ انہیں رمضان کی مبارکباد پیش کریں، ان کی احوال پرسی کریں۔ تیس افراد کی فہرست بنائیں۔
اگر آپ انہیں افطار دے سکتے ہیں، تو بہتر؛ آپ کو انہیں گھر بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے گھر بھیج دیں۔ اگر وہ دوسرے شہر میں ہیں تو افطاری کے لیے پیسے بھیج دیں۔ یہ تحفہ کے ذریعے صلہ رحم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کھجور کا ایک ٹکڑا بھی تحفہ ہے۔ اگر تمھارے پاس کچھ نہیں ہے تو خود جائیں۔ پیسہ خرچ کرنا ضروری نہیں ہے.
جن کے ساتھ تلخی کلامی ہے ان سے معذرت خواہی کریں؛ مصالحت کریں یعنی اگر انہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے تو آپ پہل کریں۔ رمضان المبارک میں ثابت کریں کہ رمضان کی سخاوت آپ کی شخصیت میں داخل ہو گئی ہے، کہ رمضان نے آپ کو شریف بنا دیا ہے، آپ کے دل سے کینہ اور بغض نکال دیا ہے۔ اپنے اندر معاف کرنے کی ہمت پیدا کریں۔ اگر کسی نے آپ پر ظلم کیا ہے تو اسے ترجیح دیں۔ اللہ آپ کے ذریعے انہیں توفیق عطا فرمائے گا۔
دوسرا: انفاق۔ رمضان میں خرچ کریں۔ اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے یعنی مال، رزق، وقت، استطاعت، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ پہلے اپنے گھر میں اضافی اشیاء کی فہرست بنائیں۔ ایک سال تک استعمال نہ ہونے والی کوئی بھی چیز — برتن، کپڑے، جوتے، بچوں کے کھلونے — گھر اضافی سامان سے بھر گئے ہیں۔ عید سے پہلے ان کو جمع کریں، جو مرمت ہو سکے اس کی مرمت کریں، کپڑے استری کریں، اور ضرورت مندوں میں تقسیم کریں۔ یہ انفاق ہے۔ جب صحابہ نے پوچھا:
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلِ الْعَفْوَ
وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ کہو: اضافی چیزیں۔
تیسرا: تین کمزوریوں کی نشاندہی کریں یعنی تین بڑی عادات جو آپ کی ناکامی کا سبب بنتی ہیں یا آپ کی شخصیت کو کم کرتی ہیں۔ ہر دس دن میں ایک پر کام کریں۔ عادت چھوڑنا مشکل ہے۔ یہ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ ایک کمزوری کے لیے دس دن، دوسری کمزوری کے لیے اگلے دس دن، تیسری کے لیے آخری دس دن۔ یہ ایک شروعات ہے۔ مضبوط عزم رکھنے والے اس سے بھی زیادہ کر سکتے ہیں۔
یہ تین چیزیں؛ صلہ رحم، انفاق، اور کمزور عادتوں کو دور کرنا۔ ماہ رمضان عزم کو مضبوط کرنے اور عادات کو دور کرنے کا مہینہ ہے۔ عادتیں چھوڑیں؛ عزم کو مضبوط کریں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ یہ ماہ رمضان ہماری شخصیت میں، ہماری روح اور ہمارے دل میں تبدیلی کا باعث بنے۔
