اللہ نے نبی کریم اور قرآن کو اس لیے بھیجا کہ ان کے ذریعے امت سے اختلاف دور کر کے اسے امت واحدہ بنایا جائے لیکن امت نے انہیں دو کو اختلاف کا موضوع بنا کر اختلاف کو مزید بڑھاوا دیا۔
انبیاء اور آسمانی کتابوں کا مقصد امت کی تشکیل
سورہ مومنون کی آیت 52 میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱتَّقُونِ
یہ تمہاری امت، امت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں پس میرا تقویٰ اختیار کرو۔ اس امت کی وحدت کی حفاظت کرو چونکہ باقی ثمرات خداوند عالم نے اس امت واحدہ کا نتیجہ قرار دیئے ہیں۔ دنیا و آخرت کے نتائج اس امت کی تشکیل اور اس کی وحدت کی حفاظت میں مضمر ہیں۔
انبیاء اور آسمانی کتابوں کا مقصد امت کی تشکیل
امت واحدہ اور اس کی حفاظت کا پہلا مرحلہ امت کی تشکیل ہے۔ انبیاء کرام کی آمد اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد امت سازی اور وحدت امت ہے۔ وحدت امت تشکیل امت کے ساتھ ساتھ انجام پانا چاہیے وحدت کے بغیر امت کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔
قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت 213 میں اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد امت کی تشکیل قرار دیا ہے۔
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةࣰ وَٰحِدَةࣰ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطࣲ مُّسۡتَقِيمٍ
لوگ امت واحدہ تھے تب اللہ نے انبیاء کو مبشر اور منذر بنا کر مبعوث کیا۔ اور انبیاء کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب بھی اللہ نے نازل فرمائی تاکہ انبیاء ان کے درمیان ان امور میں فیصلے کریں جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ یعنی ان کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافی امور میں کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ لیکن جنہیں یہ کتاب دی تھی ان لوگوں نے خود اسی کتاب میں اختلاف کر دیا جبکہ اختلاف کی کوئی وجہ نہیں تھی انہوں نے بلاوجہ اختلاف کیا۔ چونکہ کتاب میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہ اختلاف انہوں نے بغاوت کے نتیجے میں کیا۔ اختلاف ڈالنے والوں میں صاحب ایمان کی اللہ نے ہدایت کر دی۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر ہدایت کر دیتا ہے۔
قرآن کی رو سے انسانوں میں اختلاف کہاں سے پیدا ہوا؟
اس آیت کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں امت ایک تھی پھر اس میں اختلاف پیدا ہوا۔ علمائے علم الاجتماع نے اس موضوع پر اپنی تحقیقات بیان کی ہیں کہ انسانوں میں اختلاف کیسے پیدا ہوا؟ قرآن کریم نے اس اختلاف کی ایک مثال آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی پیش کی۔
ہم نے پہلے بھی بیان کیا کہ آدم اور حوا کی خلقت کے بارے میں دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ آدم و حوا دو فرد ہی تھے اور ان سے آگے نسل انسانی وجود میں آئی۔ اس تفسیر کے مطابق دسیوں سوال ہیں جو حل طلب ہیں لیکن ان کا کوئی قانع کنندہ جواب نہیں ہوتا۔ علمی طور پر کوئی نظریہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کے جوابات مل جائیں۔ علمی دنیا میں یہ چیز رائج ہے کہ جب بھی کوئی تحقیق پیش کی جاتی ہے تو اسے تنقیدی مرحلے سے گزارنا ضروری ہوتا ہے۔ صنعتی دنیا میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے کہ جب بھی کوئی پروڈیکٹ بنتا ہے تو اس کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کی کوالٹی چک کی جاتی ہے تاکہ اس میں پائی جانی والی کمیوں کو دور کیا جا سکے۔ اسی وجہ سے صنعتی دنیا میں ترقی ہوتی ہے۔
لیکن مذہبی طبقے میں یہ چیز رائج نہیں ہے دینی میدان میں اگر کسی چیز کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اسے برا سمجھا جاتا ہے اور ناقد کو دین مخالف قرار دے کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا جاتا ہے۔
قرآن کریم کی بہت ساری تفسیریں ہو چکی ہیں کچھ معروف ہیں اور کچھ غیر معروف، لیکن سب کا علمی معیارات کے مطابق جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
سائنس میں دو نظریے ایسے ہیں جو اگر چہ علمی دنیا میں رد ہو چکے ہیں لیکن ہمارے سماج میں وہ مسلمات میں سے قرار پا چکے ہیں اور ہمارے نوجوان ان پر اپنا ایمان لا چکے ہیں۔ ایک ڈارون کی تھیوری اور دوسرا بگ بینگ کی تھیوری۔ یہ دو تھیوریاں ناپختہ ہیں اس لیے کہ ان کے اوپر اٹھنے والے سوالوں کے جواب ان کے پاس نہیں ہیں۔
کسی بھی علمی چیز کو اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا ہو گا تب وہ نظریہ مکمل ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا دینی کتب میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔ قرآن کریم سے متعلق لکھی گئی تفسیروں کے مالک یہ کبھی بھی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے کہ ان پر اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیں۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے اپنی تفسیروں میں لکھ دیا باقی سب کو اسے ماننا ہے اگر کوئی نہیں مانتا تو یہ اس کے دین و ایمان کی کمزوری ہے۔ جبکہ قرآن کریم یہ نہیں کہتا بلکہ وہ اس چیز کی مذمت کرتا ہے کہ جو لوگ گونگے، بہرے اور اندھے ہیں جو غور و فکر نہیں کرتے، سوال نہیں اٹھاتے، دلیل طلب نہیں کرتے قرآن ایسے لوگوں کو شرالدواب کہتا ہے۔ یعنی یہ زمین پر ریگنے والے سب سے برے جانور ہیں۔ اسی طرح کی تفسیروں میں سے ایک تفسیر خلقت آدم کے بارے میں بھی ہے کہ جس کے اوپر اٹھائے جانے والے سوالات کے کوئی جوابات نہیں ملتے۔ جیسے یہ جناب آدم کی خلقت کے بعد جناب حوا کو ان کی پسلی سے خلق کیا گیا۔ یہ وہ نظریہ ہے جو عقلی اور علمی اعتبار سے بالکل قابل قبول نہیں ہے۔
خلقت آدم و زوج آدم کے بارے میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ انسانیت کی ایک تمثیل ہے اصل قصہ نوع آدمیت کا ہے یعنی اللہ نے نوع انسانی کو خلق کیا نہ کہ ایک فرد کو اور ایک فرد کو اللہ نے تمثیل کے طور پر بیان کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ جو مراحل پیش آئے ہیں وہ سب تمثیلی ہیں۔
اس نظریہ پر بھی سوالات و اشکالات ہیں۔ اس نظریہ کو بیان کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کے جوابات دیں۔
اگر آدم و حوا دو فرد تھے اور آگے ہابیل و قابیل کی شکل میں ان کی اولاد چلی ہے تو قرآن کے مطابق پہلا اختلاف وہاں پیدا ہوا ہے۔ قرآن نے پہلا اختلاف اولاد آدم میں بیان کیا ہے۔
دوسرے نظریہ یعنی نظریہ تمثیل کے مطابق ہابیل و قابیل دو شخص نہیں بلکہ دو انسانی طبقات ہیں۔ یا ہابیل ایک گروہ کا نمائندہ اور قابیل دوسرے گروہ کا نمائندہ ہے اور ان کے درمیان اختلاف رونما ہوا۔
تاریخ کے اعتبار سے انسانوں میں اختلاف کی وجہ
بہرحال دونوں نظریوں کے تحت امت میں یہ پہلا اختلاف ہے جو قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔ لیکن جو تاریخ تمدن نے ذکر ہے وہ اس سے مختلف ہے چونکہ تاریخ بہت بعد میں تدوین ہونا شروع ہوئی انسان بہت پہلے سے روئے زمین پر موجود ہے۔ جیسا زمین پر اس کے موجود اثرات سے جائزہ لگایا جا رہا ہے انسان کروڑوں سالوں سے زمین پر آباد ہے لیکن یہ موجودہ انسانی نسل تقریبا دس ہزار سال سے زمین پر موجود ہے۔ اور تاریخ اس موجودہ نسل میں بھی بہت بعد میں لکھنا شروع ہوئی۔
جب سے تاریخ تدوین ہونا شروع ہوئی اس تاریخ کے مطابق انسانوں میں اختلاف اس وقت وجود میں آیا جب انسانوں نے زمین کو اپنی مالکیت بنانا شروع کیا۔ یعنی جب تک زمین کسی کی ملکیت نہیں تھی کوئی اختلاف نہیں تھا، سب لوگ زمین پر رہ رہے تھے اور سب زمین سے مشترکہ طور پر فائدہ حاصل کر رہے تھے کوئی کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کر رہا تھا روزانہ کی ضرورت کے مطابق کھیتوں یا پھلوں سے اناج یا پھل لاتے تھے اور اپنی ضرورت پورا کر لیتے تھے۔
لیکن دھیرے دھیرے کچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے زمین کو اپنی ذاتی ملکیت بنانا شروع کیا یہاں سے اختلاف نے جنم لیا۔ جو مالکین بنے انہوں نے دوسروں پر لشکر کشی شروع کر دی اور انہیں دبانا شروع کیا تاکہ وہ سر نہ اٹھا سکیں اور جن زمینوں پر انہوں نے قبضہ کیا ہے انہیں واپس نہ لیں سکیں۔
اس کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے کہ انسان کے اندر جتنا فتنہ ہے وہ اس مالکیت سے ہے۔ قرآن کے مطابق زمین اللہ کی ہے اور صرف وہ اس کا ملک ہے اور انسان زمین کے کسی حصے کا ملک ںہیں ہے۔ اور زمین میں موجود کسی چیز کا بھی انسان مالک نہیں ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین صرف استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اور اس کے لیے قانون اور ضابطہ مقرر کیا۔ لیکن انسان نے اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین پر قبضہ کرنا اور اسے زیادہ سے زیادہ اپنی ملکیت میں لانا شروع کیا۔ اس سب انسان برابر ہیں بلا تفریق مذہب و ملت۔
دینی طبقے کی ذمہ داری اختلاف دور کرنا
انسان جو امت واحدہ تھے وہ مالکیت کی وجہ سے آپس میں اختلاف کا شکار ہوئے تو اللہ نے اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے انبیاء کو بھیجا۔ اور ان کو کتاب کی شکل میں منشور و دستور دیا تاکہ جن امور میں انسانوں کے درمیان اختلاف رونما ہوا ہے اسے اس منشور کے مطابق حل کریں۔
اب یہاں سے امت کے درمیان دینی طبقہ پیدا ہوا۔ دینی طبقے کو بنیادی طور پر انبیاء کی سیرت پر چلتے ہوئے انسانوں کے درمیان سے اختلاف ختم کرنا چاہیے تھا۔
لیکن قرآن کا کہنا ہے کہ دینی طبقے نے نہ صرف امت میں موجود اختلاف کو حل نہیں کیا بلکہ خود کتاب میں اختلاف پیدا کر دیا جبکہ کتاب میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
اس کی ایک مثال جو تاریخ میں ملتی ہے وہ حضرت نوح کی مثال ہے۔ یعنی حضرت نوح سے قبل امت واحدہ تھی پھر جب اختلاف نے جنم لیا تو اللہ نے جناب نوح کو کتاب دے کر اختلاف مٹانے کے لیے مبعوث کیا۔ جناب نوح نے ساڑھے نو سو سال کوشش کی اور امت کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی لیکن امت سے اختلاف ختم نہیں ہوا آخر کار اللہ کو وہ امت سے غرق آب کرنا پڑی۔
اس کے بعد نئے سرے سے انسانیت پھیلی اور ان میں بھی یہی عمل تکرار ہوا۔ آج کے دور کی موجود مثال قرآن کریم ہے۔ یہ تو سب کے لیے واضح ہے رسول اللہ (ص) نے اپنے دور میں امت واحدہ تشکیل دی۔ یعنی ان سے قبل لوگ شدید اختلاف کا شکار تھے تو اللہ نے رسول اللہ (ص) کو قرآن کریم جیسی واضح اور بین کتاب کے ساتھ مبعوث کیا۔ انہوں نے انتھک زحمت کر کے امت واحدہ تشکیل دی۔ لیکن بعد میں اس امت واحدہ میں پائے جانے والے ایک دینی طبقے نے جس کی ذمہ داری قرآن کریم کے ذریعے اختلاف دور کرنا تھی خود قرآن میں ہی اختلاف پیدا کر دیا۔ جس چیز کے ذریعے انہوں نے اختلاف ختم کرنا تھا اسی پر اختلاف کیا۔
امت کا نبی اور کتاب کو اختلاف کا ذریعہ بنانا
اللہ نے نبی کریم اور قرآن کو اس لیے بھیجا کہ ان کے ذریعے امت سے اختلاف دور کر کے اسے امت واحدہ بنایا جائے لیکن امت نے انہیں دو کو اختلاف کا موضوع بنا کر اختلاف کو مزید بڑھاوا دیا۔
اسی چیز کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ کہ اللہ نے انبیاء اور کتاب کو اس لیے بھیجا کہ وہ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ کریں جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔
وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ لیکن واضح دلائل آنے کے بعد ان لوگوں نے جن کو یہ کتاب دوسروں میں اختلاف مٹانے کے لیے دی تھی خود کتاب میں اختلاف کر دیا۔ یعنی یہ مذہبی طبقے کی کارکردگی ہے کہ اختلاف مٹانے والی میں اختلاف پیدا کر دیا۔ لیکن ایسا کیوں کیا؟ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ عام طور پر ’’بغی‘‘ کے معنی فتنہ فساد وغیرہ کے کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ معنی بغی کے نہیں ہیں۔ ’’بغی‘‘ وہ بیماری ہے جو گذشتہ انبیاء کی امتوں میں بھی موجود تھی اور آج امت مسلمہ میں بھی یہ بیماری کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اور یہ سارا اختلاف جو آن امت مسلمہ میں پایا جاتا ہے وہ اسی ’’بغی‘‘ کی وجہ سے ہے۔ اس کے دقیق معنیٰ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔
’’بغی‘‘ کہاں پیدا ہوئی کہ اس نے امت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُراً کُلُّ حِزْب بِما لَدَیْهِمْ فَرِحُونَ۔ جس چیز نے امت کے ٹکڑے ٹکڑے کیے وہ بغی ہے لہذا اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اس ماہ نزول قرآن میں ہمیں قرآن کی صحیح فہم عطا فرمائے۔
خطبہ دوم
تقویٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حفاظتی تدبیر ہے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے قیام کے لیے بہت سارے وسائل کا اہتمام کیا۔ ان میں سے ایک یہ ماہ رمضان المبارک ہے۔ ماہ رمضان تقویٰ کی بہت بڑی ورکشاپ ہے جس میں قرآن بھی ہے اور صیام بھی۔
روزے اور صیام کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
صیام کا پہلا نتیجہ تقویٰ ہے۔ اور صرف صیام ہی نہیں بلکہ رمضان کا مقصد ہی تقویٰ کا حصول ہے۔ ماہ مبارک میں صرف روزہ ہی نہیں بلکہ چوبیس گھنٹے کے اندر انجام پانے والے انسان کے تمام اعمال و حرکات و سکنات مل کر اس بابرکت مہینے کو تشکیل دیتے ہیں۔
رمضان عملی ورکشاپ
یہ ایک عملی ورکشاپ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ مبارک کے حوالے سے ہمیں بالکل یہی ورکشاپ پر مبنی پروگرام دیا۔ رسول اللہ (ص) نے ماہ رمضان کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ہمارے لیے اس کام کو آسان کر دیا تاکہ ہم روزانہ کی بنیاد پر اس میں سرگرم رہیں۔
کیونکہ ہم ایسے تربیت یافتہ لوگ نہیں ہیں کہ رمضان المبارک کو قرآنی طریقے کے مطابق، یا رسول اللہ اور ائمہ اہل بیت کے طریقے کے مطابق گزاریں۔ ہم رمضان کو اپنی روایتوں اور رسموں کے مطابق گزارتے ہیں۔
رسول اللہ (ص) قرآنی رمضان کا جو نظام الاوقات بنایا تھا، ہم اسے مرحلہ وار شروع کرتے ہیں تاکہ ہم اس سے بتدریج واقف ہو جائیں، اور رمضان کے آخر تک، انشاء اللہ اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر اس سال یہ ورکشاپ قائم ہو گی تو انشاء اللہ اگلے سال کا ماہ رمضان ہم قرآن، رسول اللہ (ص) اور اہل بیت کے طریقے کے مطابق گزاریں گے۔
اب تک، چونکہ پہلے دس دن ختم ہونے والے ہیں — آج رمضان کی نویں تاریخ ہے، اور کل دسویں ہے — کل پہلے دس دنوں کا آخری دن ہے۔ اور آخری دن عموماً احتساب کا دن ہوتا ہے۔
رمضان کے پہلے عشرے کا محاسبہ کریں
کل پہلے دس دنوں کا آپ جائزہ لیں کہ پہلے دس دنوں کے دوران آپ نے اس ورکشاپ میں کیا کیا ہے۔ پہلے دس دنوں کے تین مقاصد تھے: انفاق، صلہ رحمی اور حفظ لسان۔ ان تین مقاصد میں آپ کہاں تک پہنچے ہیں؟
کیا آپ نے مکمل کامیابی حاصل کی ہے؟ یا ابھی کوشش کر رہے ہیں؟ یا ابھی تک آپ نے ان مقاصد کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھایا ہے؟ آپ کو خود اپنا اندازہ لگانا چاہیے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں: "ہم کوشش کر رہے ہیں۔” کوشش کرنے کا مطلب ہے کہ کامیابی ابھی تک حاصل نہیں ہوئی ہے – لیکن نہ ہی اسے ترک کیا گیا ہے۔ کوشش اور جدوجہد جاری ہے۔
کیا آپ کوشش کرنے والوں کے زمرے میں ہیں؟ یا کیا آپ مفلحون یعنی کامیاب ہونے والوں میں سے ہیں؟ مفلحون وہ ہیں جنہوں نے پہلی دس روزہ ورکشاپ کا مقصد حاصل کیا ہے؟
کچھ لوگ ابھی رسمی رمضان گزار رہے ہیں یعنی پورا رمضان پکوڑوں، سموسوں اور مٹھائیوں میں بسر کر رہے ہیں اور ابھی تک اس ورکشاپ میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔
ایسے روزوں کے بارے میں اہل بیت فرماتے ہیں: یہ محض بھوک ہے۔ روزہ نہیں ہے۔
حفظ لسان کے معاشرے پر اثرات
زبان کی حفاظت کرو تو دیکھو معاشرے میں کیا اثر ہوتا ہے۔ بلکہ معاشرے سے پہلے اپنے گھر کا ماحول دیکھو۔ اپنی زبان کی حفاظت کر کے دیکھو کہ آپ کے گھر کے ماحول میں کیا تبدیلی آتی ہے۔
ایک قصہ بیان کیا تھا کہ ایک عورت ڈاکٹر کے پاس گئی اور کہا کہ میرا شوہر نفسیاتی طور پر بہت برا انسان ہے، وہ مجھے دن بھر ڈانٹتا ہے، مجھے اس کے لیے کوئی دوا دو۔ ڈاکٹر نے کہا کہ دوا ہے آپ کوشش کر کے دیکھیں۔ ڈاکٹر نے اسے ایک گولی دی اور کہا: جب تمہارا شوہر گھر آئے تو اس گولی کو اپنی زبان کے نیچے رکھ کر خاموش بیٹھ جانا۔
اس نے ایسا ہی کیا۔ جب بھی شوہر گھر آتا تو وہ گولی زبان کے نیچے رکھ کر خاموش بیٹھ جاتی۔ شوہر بڑے پیار و محبت سے پیش آتا۔
ایک ہفتے کے بعد وہ واپس آئی اور کہا: یہ معجزاتی دوا ہے۔ گولی میرے منہ میں ہے لیکن علاج اس کا ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر نے کہا: ہاں اگر تمام عورتیں یہ گولی کھائیں تو سب شوہر ٹھیک ہو جائیں گے۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ عورت تیز زبان تھی۔ جب شوہر تھک ہار کر واپس آتا تو وہ اس انداز میں بات کرتی جو اسے مزید مشتعل کر دیتی۔ ڈاکٹر نے اس کی زبان روک دی – یہی علاج تھا۔
آپ بھی ایسا کریں۔ اپنی زبان کی حفاظت کریں اور دیکھیں کہ اس کا آپ کے گھر، آپ کے دوستوں کے درمیان، آپ کے ماحول میں کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ ایک معجزہ ہو گا، رمضان کا معجزہ۔
اسی طرح ہر عمل کے اثرات ہیں۔ اگر اثرات ظاہر ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پہلی دس روزہ ورکشاپ میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
انفاق کی عادت
انفاق کے بارے میں واضح کر دوں کہ ہم سب کو اپنے اندر انفاق کی عادت ڈالنا چاہیے۔
اگر آپ کے پاس زکوٰۃ واجب الادا مال ہے تو زکوٰۃ دو۔ اگر خمس واجب ہو تو خمس دے دو اور اپنے مال کو پاک کرو۔
اسی طرح صدقہ فطر ہے جو ماہ رمضان کے آخر میں دینا ہو گا اور اس میں ایک اور عنوان شامل کر لیں رد مظالم کا۔ رد مظالم یعنی غلط طریقے سے رکھے ہوئے مال کی واپسی۔ اگر کسی کا حق آپ کے قبضے میں رہ گیا ہے مثلا حساب کی غلطی سے یا لین دین کی غلطی کی وجہ سے، اگر آپ یہ نہ جانتے ہوں کہ یہ کس کا حق ہے، تو اندازہ لگائیں اور رد المظالم کی صورت میں دیں۔
یہ بھی انفاق کا حصہ ہے۔
زائد سامان کو اللہ میں خرچ کر دیں۔
انفاق کا معجزہ
انفاق کرنے کے بھی بہت سے معجزے ہیں۔ جس طرح زبان کی حفاظت کے معجزے ہیں اسی طرح انفاق میں بھی معجزے ہیں۔
انفاق کا ایک معجزہ یہ ہے کہ یہ ہماری سماجی اور مذہبی غربت اور محرومی کو دور کرتا ہے۔
جامعہ عروۃ الوثقیٰ کو دیکھیں یہ مومنین کے انفاق کے ذریعے آج پھل پھول رہا ہے۔ اس میں سالانہ 34,348,968 روپے کا خرچہ ہے۔
کوئی سرکاری فنڈز نہیں – پاکستانی حکومت، ایران، ہندوستان، افغانستان کہیں سے نہیں۔ نہ کبھی کسی سے مانگا اور نہ کبھی کسی سے قبول کیا۔
یہ مومنین کے انفاق کا معجزہ ہے۔
آپ کا چھوٹا سا انفاق معمولی نہیں ہے۔ یہ آپ کے مال کو پاک کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں آپ کا وجود پاک ہوتا ہے۔
