ولی امر مسلمین امام خامنہ ای وہ ہستی ہیں جنہوں نے اس راہ میں جانفشانی کر کے امت مسلمہ کو عذاب الہی سے بچایا ہے۔ اور ان کے پیروکار جو ان کی شہادت کے بعد پوری دنیائے کفر کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے تمام شیطانی قوتوں کو مزہ چکھا دیا ہے اور شیطانوں کو جو سبق سکھایا گیا ہے اس کا انہوں نے اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے۔
امت ساری بنیادی فریضہ؍ امام خامنہ ای کی شہادت سے امت عذاب سے بچ گئی
تقویٰ زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ہے جس طرز کا شعبہ زندگی ہے اسی طرز کی حفاظتی تدبیر اور تقویٰ بھی پروردگار عالم نے قرار دیا ہے۔ ان میں سے بنیادی، اساسی اور اجتماعی تقویٰ امت کا تقویٰ ہے۔ پروردگار عالم نے انبیاء کرام کو مخاطب کر کے انہیں ارشاد فرمایا:
وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ (سورہ مومنون، 52)
یہ امت تمہاری امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں پس میرا تقویٰ اختیار کرو۔
اس تقویٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے امت سازی کا حکم فرمایا ہے کہ پہلے انتشار و تفرقہ کی حالت سے نکل کر امت کی شکل اختیار کرو۔ پھر جب امت تشکیل پا جائے تو امت کی حفاظت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
امت ساری بنیادی فریضہ
یہ بنیادی واجبات ہیں۔ فروعی اور انفرادی واجبات اس وقت نتیجہ دیتے ہیں جب بنیادی واجبات قائم ہو چکے ہوں۔ جیسے جب ہم کوئی عمارت کھڑی کرتے ہیں تو اس کے فروعی اور ذیلی امور اس وقت دیکھے جاتے ہیں جب اس کی بنیادیں کھڑی ہو جائیں۔ بنیادوں کے بغیر اگر فروعی اور ثانوی امور کو انجام دے بھی دیا جائے تو وہ ضائع ہو جاتے ہیں۔
امت کی تشکیل کے بغیر ہم فروعی نیکیوں اور اجر و ثواب کمانے کی کوشش میں لگے رہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ امت سازی بنیادی ڈھانچہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں امت سازی کا تذکرہ کرتے ہوئے انبیاء کرام کی بعثت کا پہلا اور بنیادی مقصد تشکیل امت قرار دیا ہے۔
سورہ بقرہ کی آیت 213 میں اللہ تعالیٰ نے اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٍ
لوگ امت واحدہ تھے (یہاں پر ایک مرحلہ بیان نہیں ہوا جبکہ سورہ یونس میں اس کو بیان کیا گیا ہے ’’فاختلفوا‘‘ تو ان کے درمیان اختلاف رونما ہوا) پھر اللہ نے انبیاء کو مبشر اور منذر کے طور پر مبعوث کیا اور انبیاء کے ساتھ کتاب بھی دی تاکہ لوگوں میں پیدا ہونے والے وحدت شکن اور امت شکن اختلاف کو کتاب کے مطابق دور کریں اور انہیں دوبارہ امت واحدہ میں تبدیل کریں۔ لیکن لوگوں نے انبیاء اور کتابوں میں اختلاف شروع کر دیا۔ اختلاف کی وجہ کیا تھی ’’بغیا بینھم‘‘ بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے کتاب اور انبیاء کی تعلیمات میں اختلاف کیا۔ اللہ تعالیٰ مومنین میں انبیاء اور کتاب کے ذریعے اختلاف ختم کر دیتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اسے صراط مستقیم پر ہدایت کر دیتا ہے۔
صراط مستقیم سے مراد وحدت امت
صراط مستقیم سے مراد بھی یہاں پر وحدت امت ہے۔ اختلاف ضلالت اور گمراہی کا راستہ ہے اور وحدت صراط مستقیم ہے۔
اس آیت کے مطابق دین و مذہب اختلاف ختم کرنے کا ذریعہ تھا لیکن دین سے بغاوت رکھنے والے لوگوں نے خود دین و مذہب کو ہی اختلاف کا ذریعہ بنا دیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے بڑا اختلاف پوری امت مسلمہ میں مذہبی اختلاف ہے۔
قرآن کریم کے سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ مومنین سے فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے اور قریب تھا کہ یہ دشمنی تمہیں نابود کر دے اور پھر رسول اللہ آئے اور انہوں نے تمہارے اندر سے اختلاف ختم کیا اور تمہیں امت واحدہ بنایا ’’ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ‘‘ تم ہماری نعمت کے توسط سے بھائی بھائی بن گئے جبکہ تم پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ لیکن انہیں بھائیوں نے دوبارہ جب خود امت کے اندر اختلاف ڈالا تو وہ پہلے اختلاف سے زیادہ شدید تھا ’’لاتفرقوا۔۔‘‘ لہذا نہ خود تفرقہ ڈالو اور نہ تفرقہ ڈالنے والوں کی طرح بنو۔
بغی، بغاوت اور تعدی میں فرق
لیکن امت کے اندر یہ اختلاف کیوں ڈالا اس کی وجہ کیا تھی؟ بغیا بینھم۔ بغی کی وجہ سے۔ بغیا قرآن کریم میں متعدد آیات میں استعمال ہوا ہے۔ میں کئی بار اس لفظ کی تشریح کر چکا ہوں کہ عام طور پر بغاوت، سرکشی اور تعدی کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن لغت میں بغی اس معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا، بغاوت اور سرکشی لغوی معنیٰ کا لازمہ ہے۔ بغی کے لغوی معنیٰ وہ طلب اور خواہش ہے جو انسان عملی طور پر کرتا ہے۔ اگر انسان مال دنیا کی طلب میں نکلے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو یہ ابتغاء المال ہے۔ لیکن عام اور معمول کے مطابق کی جانے والی کوشش کو بغی نہیں کہتے بلکہ حد سے گزر جانے والی کوشش کو بغی کہتے ہیں۔ جو کسی چیز کے حصول کی معمول کے مطابق کوشش کرتا ہے اسے طالب کہتے ہیں اور جو حد سے بڑھ کر کرتا ہے اسے مبتغی کہتے ہیں۔ حد سے بڑھ کر جب انسان کسی چیز کی طلب کرتا ہے تو اس راہ میں جو چیز آڑے آتی ہے اس کو درکنار کر دیتا ہے۔ چونکہ حد سے بڑھ کر کوشش کرنے اور اس راہ میں پائی جانے والی رکاوٹوں کو دور کر کے مورد نظر چیز کے حصوص کو بغی کہتے ہیں اس لیے علماء نے اس کے معنی بغاوت کیے ہیں چونکہ انسان اس میں حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔ جبکہ تجاوز کے لیے قرآن نے لفظ تعدی استعمال کیا ہے۔ ابتغا حدیں توڑنے کا نام نہیں ہے حد سے بڑھ کر کوشش کا نام ہے۔ قانون کی حد توڑنے کو بغی نہیں کہتے وہ تعدی ہے جس میں قانون کی حدود سے تجاوز کیا جاتا ہے۔ یہ اشتباہ علماء نے کیا ہے۔
اس آیت کے علاوہ اور بھی بہت ساری آیات ہیں جن میں بنی اسرائیل یا دیگر قوموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کام بغیا کیا ہے۔ انبیاء کی مخالفت یا کوئی اور دینی سماجی بحران بغی کی وجہ سے پیدا کیا ہے۔
بغی کے معنیٰ آیت کے تناظر میں
اس آیت میں بغی اس تناظر میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کے لیے ایک مقصد رکھا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک راستہ معین کیا ہے اور اس راستے پر لگانے کے لیے رہنما مقرر کیا ہے۔ مقصد خلقت تک پہنچنے کے لیے صراط مستقیم رکھا ہے اور انبیاء اور کتب آسمانی اس مقصد کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ یہ الہی مقصد چھوڑ کر اپنا الگ نصب العین مقرر کر لیتے ہیں اور اپنے مقصد کے لیے حد سے بڑھ کر کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام میں جتنے فرقے بنے ہیں یہ سارے بغی کی وجہ سے بنے ہیں فرقہ سازی کی بنیاد بغی ہے۔ یعنی انہوں نے دین، قرآن، انبیاء اور اہل بیت سے اپنا مقصد الگ کر کے اس کے حصول کے لیے حد سے زیادہ کوشش کرنا شروع کی ہے۔ ایک قرآن کے ہوتے ہوئے فرقے کیوں بنے ہیں چونکہ فرقہ سازوں کے الگ الگ اہداف و مقاصد ہیں وہ اہداف دوسروں کے ساتھ مل کر حاصل نہیں ہوتے، وہ تب حاصل ہوتے ہیں جب ہم اپنا الگ تشخص قائم کریں۔ اسی لیے امت توڑ کر الگ فرقہ بنانا پڑتا ہے چونکہ امت جس مقصد کے درپے ہے اس میں ان کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔
بغی اور فرقوں کے مقصد کا حصول
جو مقصد اللہ، رسول اور اہل بیت(ع) نے امت کے لیے رکھا ہے وہ فرقہ بندی سے حاصل نہیں ہوتا وہ امت سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن فرقوں اور گروہوں کا جو مقصد ہے وہ علیحدگی میں حاصل ہوتا ہے اس لیے یہ الگ اپنا مقصد مقرر کر کے اس کے حصول کی کوشش میں جٹ جاتے ہیں اس لیے ان کو باغی کہا گیا ہے۔
سورہ بقرہ کی اس آیہ کریمہ میں انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد امت سازی ہے۔ ساتھ میں یہ بھی فرما دیا کہ اس میں بڑا جرم مذہبی لوگوں کا ہے چونکہ وہ الہی مقاصد سے اپنے مقاصد الگ کر کے ان کے حصول کے لیے تک و دو میں لگ جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ امت میں رخنہ ڈالتے ہوئے اختلاف و انتشار وجود میں لاتے ہیں۔
یہ اختلاف آج ہمیں امت اسلامی میں واضح نظر آتا ہے۔ رسول خدا (ص) نے مختلف قبائلی مشخصات ختم کر کے انہیں ایک امت بنایا۔ لیکن مذہبی طبقے نے بغاوت کرتے ہوئے اس امت واحدہ کا اتحاد پارہ پارہ کر دیا اور امت کو گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا۔ اور آج یہ اختلاف اپنے عروج پر ہے اس کا نتیجہ بھی لوگ دیکھ رہے ہیں۔
اختلاف امت کے ختم نہ ہونے میں بڑی تباہی کا اندیشہ
اگر یہ امت قرآن کی واضح تعلیمات کے نتیجے میں اپنے اختلاف ختم کر کے دوبارہ ایک امت تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہوتی تو قوم نوح کی طرح اس کا انجام تباہی ہوگا۔ وہ تباہی طوفان کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور بحران کی صورت میں بھی۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے اختلاف سے اللہ ناراض ہو کر انہیں تباہ کرے گا بلکہ خود اختلاف ہی ان کے خاتمے کا باعث بنے گا چونکہ اختلاف کی فطرت یہ ہے کہ وہ طوفان اور بحران بن کر اختلاف کرنے والوں کو ڈبو دیتا ہے۔ آج جو مسلمانوں کی حالت ہے وہ یہ ہے کہ یہ بالکل بحران کے دہانے پر ہیں جس کا سورہ آل عمران میں ذکر ہوا ہے: ’’وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ‘‘ تم بالکل جہنم کے دہانے پر تھے کہ رسول اللہ نے تمہیں بچا لیا۔ آج امت مسلمہ اس جہنم کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ چونکہ اختلاف نے انہیں جہنم کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے اور اختلاف کی وجہ بھی مفاد پرستی، اقتدار پرستی، قوم پرستی اور فرقہ پرستی ہے۔ یہاں بھی اگر قرآن سے رہنمائی لیں تو سنبھل سکتے ہیں جیسے رسول اللہ نے جہنم کے دہانے پر پہنچے ہوئے لوگوں کو قرآن کی رہنمائی سے بچا لیا اسی طرح آج بھی یہ کام ہو سکتا ہے رسول اللہ کی تعلیمات بھی موجود ہیں اور قرآن بھی موجود ہے۔ جن اسباب سے رسول اللہ نے اس وقت جہنم سے نجات وہ اسباب آج بھی موجود ہیں۔
دوسرا خطبہ
امت کی موجودہ صورتحال بےتقویٰ ہونے کا نتیجہ
تقویٰ کے بغیر زندگی گزارنے کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شیطان با آسانی انسان کو دبوچ لیتا ہے۔ غزہ میں انسانیت کی نسل کشی اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان بطور کلی تقویٰ سے عاری ہو چکے ہیں۔ بلکہ جب انسان کے پاس تقویٰ نہیں ہوتا تو فسق و فجور اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یہ کسی مسلمان کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایک دن یہ سب دیکھنا پڑے گا۔ لیکن اسی درمیان کچھ لوگ باتقویٰ بھی موجود ہیں:
امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک شاگرد جنہیں آپ نے قم مقدسہ میں مامور فرمایا تھا، یہ بنوعباس کے دور کا قم تھا تو زکریا بن آدم نے قم کے لوگوں سے تنگ آ کر امام علیہ السلام سے التجا کی آپ مجھے اجازت دیں تو میں کسی اور بستی میں چلا جاؤں تو امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ وہ عذاب جو آپ کی وجہ سے اس بستی پر نازل نہیں ہو رہا ہے وہ آپ کے جانے کے بعد اس پر نازل ہو جائے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں پسند نہیں کرتا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر صبر کرو اور اس بستی میں ٹھہرے رہو چونکہ آپ کی وجہ سے اس بستی سے اللہ نے عذاب ٹالا ہوا ہے۔
امام خامنہ ای کی شہادت سے امت عذاب سے بچ گئی
آج کی دنیا میں اگر ہم دیکھیں تو مسلمان عذاب الہی کے ایک دم قریب پہنچے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی کہ وہ عذاب سے بچ سکیں۔ وہ ہر پستی، ذلت اور قباحت کو اپنے گلے سے لگائے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اللہ ان پر اپنا عذاب نازل نہیں کر رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ زکریا بن آدم جیسی ہستیاں ہیں جن میں سے ایک ہستی نے اسلام اور مسلمانوں پر خود کو قربان کیا ہے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای وہ ہستی ہیں جنہوں نے اس راہ میں جانفشانی کر کے امت مسلمہ کو عذاب الہی سے بچایا ہے۔ اور ان کے پیروکار جو ان کی شہادت کے بعد پوری دنیائے کفر کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے تمام شیطانی قوتوں کو مزہ چکھا دیا ہے اور شیطانوں کو جو سبق سکھایا گیا ہے اس کا انہوں نے اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے۔
امام خامنہ ای کی زندگی اور موت میں صرف للٰہیت
یہ شہادت امت کے لیے بہت ہی سنگین شہادت ہے لیکن اس شہادت نے جو کرامات ظاہر کی ہیں وہ دیکھنے کے لائق ہیں۔ اپنی پوری حیات دین کے لیے وقف کر دی، طالبعلمی کے دور سے لے کر شہادت تک ایک بھی دن راہ خدا اور مرضی الہی سے ہٹ کر نہیں گزارا۔ جس طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بنی کریم سے فرماتا ہے کہ آپ کہیے: قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۔ اگر آج کے زمانے میں کسی کے بارے میں یہ گواہی دی جا سکتی ہے کہ اس کی زندگی اور اس کی موت صرف اللہ رب العالمین کے لیے تھی تو وہ صرف امام خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے لیے تھا۔
میدان مجاہدت میں امام خامنہ ای کا کردار
پوری زندگی جد و جہد اور راہ خدا میں تلاش و کوشش میں گزاری۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی ان کی کوششوں کا نتیجہ تھی، وہ جنگ جو صدام کے ذریعے مسلط کی گئی اس کے مقابلے میں آپ کا بنیادی کردار رونما ہوا۔ انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد جب ملک پر ایک منافق صدر ’بنی صدر‘ مسلط تھا اور فوج پاش پاش تھی دشمنوں نے موقع تاک کر صدام کے ذریعے ایران پر حملہ کروا دیا۔ اور کئی سرحدی علاقوں پر عراق نے قبضہ کر لیا اس دور میں امام خامنہ ای جبکہ وہ کسی عہدہ پر فائز نہیں تھے نے لباس روحانیت اتارا اور لباس رزم پہن کر محاذ جنگ پر چلے گئے اور اس کے علاقے کے جوانوں کو اکٹھا کیا اور خود بندوق اٹھا کر جوانوں کے ساتھ مورچوں کو سنبھال لیا۔
دوسری شخصیت جو ان کے ساتھ آ کر مل گئی وہ شہید مصطفیٰ چمران تھے ان دونوں نے مل کر بسیجی فورس بنائی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کو بنی صدر اسلحہ نہیں دے رہا تھا یہ خالی ہاتھ جوان تھے اور ان کے مقابلے میں آنے والی فورس اس وقت کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس تھی۔ ان حالات میں انہوں نے انقلاب کا دفاع کیا اور یہی بسیجی فورس جو بعد میں سپاہ پاسداران کی شکل اختیار کر کے ملک کی سب سے مضبوط فوج بن گئی امام خامنہ ای نے ہی بنائی تھی۔
انقلاب کا دفاع اور امت کی قیادت
رہبر کی یہ زندگی ہمارے لیے پوشیدہ ہے کہ انہوں نے کس کس مورچے میں کیسے کیسے رہ کر انقلاب کا دفاع کیا۔
بعد میں جب قیادت کا بحران نظر آنے لگا چونکہ امام خمینی (رہ) کے دور میں ہی بہت ساری اہم انقلابی شخصیتیں شہید ہو چکی تھی تو ایک مرتبہ آقائے رفسنجانی امام کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے بعد ہمیں شدید خدشہ ہے چونکہ آپ کی جگہ سنبھالنے والا کوئی نظر نہیں آتا تو امام نے کہا کہ کیا آپ کو سید علی خامنہ ای نظر نہیں آتے؟ امام نے ان کے اندر قیادت کی قابلیت اور اخلاص و فداکاری دیکھ لی تھی چونکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح رہبر خودنمائی کرنے والی شخصیت نہیں تھی۔ ایک فیصد بھی کسی نے ان کے اندر خودنمائی نہیں دیکھی۔
امام خامنہ کا مادی اثاثہ
مجھے خود یاد ہے کہ جب رہبر صدر مملکت کے عہدہ پر فائز تھے تو اس وقت ملک کے اندر تین بڑی شخصیات تھیں ایک وزیر اعظم، دوسرے پارلیمنٹ اسپیکر اور تیسرے صدر مملکت۔ ان تینوں شخصیات کے اثاثوں کا موازنہ کیا گیا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تب ان کے پاس کیا تھا اور اب جب اپنے اپنے عہدوں سے فارغ ہوئے ہیں تب انہوں نے کتنا اثاثہ اکٹھا کیا؟
بعض کو بہت شرمندگی ہوئی چونکہ انہوں نے جب عہدہ سنبھالا تو ان کے پاس کچھ نہیں تھا اور جب عہدہ چھوڑا تو وہ اس وقت ایران کے صف اول کے سرمایہ داروں میں شامل ہو گئے تھے۔ لیکن رہبر معظم کے آٹھ سالہ دور صدارت کے بعد محاسبہ کیا گیا تو ان کے پاس کل اثاثہ 15 ہزار تومان نکلا جو پانچ ہزار روپے کے برابر بھی نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی صدارت کے دوران قم میں مسجد امام حسن عسکری (ع) میں ایک مرتبہ خطاب کیا اور اس میں مجھے بھی شمولیت حاصل کرنے کی توفیق ہوئی۔ اس تقریر میں انہوں نے اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بجٹ میں میرا حصہ صرف پندرہ ہزار تومان ہے جو سرکار میرے اکاونٹ میں ماہانہ ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ اس بجٹ میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے۔
امام خامنہ ای کی سادہ زیستی
رہبر معظم نے جس طرح سے زندگی گزاری ایسی زندگی تصور سے باہر ہے۔
انہوں نے بہت پاکیزہ اور مجاہدانہ زندگی گزاری اور یہ زندگی لوگوں پر پوشیدہ تھی۔ اور آخرکار شہادت نے ان کی شخصیت پوری دنیا میں پہچنوا دی۔ سوائے ناصبیوں اور غالیوں کے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے رہبر کی عظمت کو نہ سمجھا اور اقرار کیا ہے۔ پورے ملک مذہبی اور غیر مذہبی سب نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔
جس مکان میں رہبر رہتے تھے اس کی تصویریں انٹرنٹ پر موجود ہیں سنگل اسٹوری مکان جو تقریبا پچاس ساٹھ سالہ پرانا رہا ہو گا چونکہ اس محلے کے سارے مکان ایک ہی ساخت کے تھے اور تقریبا دو سو میٹر کے لگ بھگ تھے۔ اور یہ مکان بھی رہبر کا اپنا مکان نہیں تھا بلکہ سرکاری مکان تھا۔
ظاہرا ہے ایسے گھر میں انسان کتنا محفوظ رہ سکتا ہے؟ وہ بم جو امریکہ و اسرائیل نے وہاں مارے وہ اگر نہ بھی مارے جاتے بلکہ ایک معمولی سا راکٹ بھی وہاں پھینکا جاتا تو وہ بھی گھر کی ویرانی کے لیے کافی تھا۔ لیکن امریکہ نے اس گھر پر 30 بم مارے جو ٹنوں کے حساب سے تھے۔ اس گھر میں رہبر اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ معمول کی زندگی کی گزار رہے تھے۔ اور انہیں یہ معلوم تھا کہ دشمن حملہ کرے گا بلکہ ہمیں بھی معلوم تھا ہفتے کو یہ حملہ ہوا ہے میں نے جمعہ کی شام کو اپنے ہفتہ وار تجزے میں کہا تھا کہ چند گھنٹے بعد حملہ ہونے والا ہے۔
اور آپ نے میڈیا میں سنا کہ جب رہبر سے کہا گیا کہ آپ کسی پنگاہ گاہ میں چلیں تو انہوں نے کہا کہ کیا باقی ملت ایران کے لیے پناہگاہیں بنا دی گئی ہیں؟ کیا وہ پناگاہوں میں محفوظ ہو گئے ہیں؟ اگر پوری ملت محفوظ ہو گئی ہے تو میں بھی چلا جاتا ہوں اگر قوم کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے پھر میں اپنے گھر میں ہی رہوں گا۔
اس طرح شجاعانہ انداز میں رہبر نے اپنی شہادت پیش کی۔ رہبر کی شہادت نے وہ تمام راستے جو انہوں نے زندگی میں شروع کیے تھے اور پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے تھے وہ پایہ تکمیل کو پہنچا دئے۔ اپ پاکستان کا بچہ بچہ بلا تفریق مذہب و ملت سوگوار ہے۔ جس کے سینے میں انسانیت کا دل ڈھڑکتا ہے وہ آج سوگوار ہے اور رہبر کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہا ہے۔
پاکستان کی فلم انڈسٹری اور رہبر کی شہادت پر خراج تحسین
ہماری فلم انڈسٹری کی خواتین نے رہبر کے لیے خراج تحسین پیش کیا میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں اس لیے کہ یہ ایک الگ دنیا ہے ان کو ان چیزوں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ لیکن انہوں نے جن الفاظ میں رہبر انقلاب کی عظمت کو درک کیا اور بیان کیا وہ نہایت قابل تحسین ہے۔ رہبر نے دلوں کو تسخیر کر دیا اور وہ تمام حجاب جو فرقوں کی شکل میں بنے ہوئے تھے وہ سارے ختم کر دئے۔
جس طرح رسول خدا(ص) نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’إن لقتل الحسين عليه السلام حرارةً في قلوب المؤمنين لاتبردُ أبداً‘‘۔ قتل حسین سے مومنین کے دلوں میں پیدا ہونے والی حرارت کبھی ٹھنڈی نہیں ہو گی، اسی طرح فرزند حسین کے اس قتل کی وجہ سے بھی لوگوں کے دلوں میں تڑپ پیدا ہوئی ہے وہ کبھی ختم نہیں ہو گی۔ یہ شہادت لوگوں کی بیداری اور امت کی تشکیل کا سبب بن رہی ہے۔ امت جو ایک نقطے پر اکٹھا نہیں ہو رہی تھی وہ یہاں پر اکٹھی ہو گئی ہے۔
پاکستان کے کئی قائدین نے ہم سے رابطہ کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا جو بےنظیر اور بےمثال ہیں۔
